 | | | امریکی نائب صدر نے فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد کرنے سے انکار کیا |
ایرانی حکومت نے کہا ہے کہ امریکہ اس کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اسے بات چیت کرنی چاہیے۔ ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ خطے میں ایک اور جنگ شروع کرے گا۔ وزیر خارجہ متقی کا کہنا تھا کہ پہلے ہی جنگِ عراق سے امریکی ٹیکس دہندگان کو کافی خرچ برداشت کرنا پڑا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا بیان امریکی نائب صدر ڈِک چینی کے اس بیان کے ردعمل میں آیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کے لیے پاس تمام راستے کھلے ہیں۔
 | ڈک چینی کا بیان  آسٹریلوی وزیراعظم جان ہاورڈ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈِک چینی نے کہا کہ یہ بہت بڑی غلطی ہوگی کہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے دیا جائے۔  |
نائب صدر ڈِک چینی نے کہا تھا کہ اگر ایران اپنے ایٹمی پروگرام پر مغرب کی مخالفت کرتا رہا تو امریکہ کے سامنے تمام تجاویز موجود ہیں۔آسٹریلوی وزیراعظم جان ہاورڈ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈِک چینی نے کہا کہ یہ بہت بڑی غلطی ہوگی کہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے دیا جائے۔ تاہم نائب صدر چینی کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملکر کام کررہا ہے اور وہ ایران کے ایٹمی تنازعے کے سفارتی حل کا خواہاں ہے۔ لیکن ڈِک چینی نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد کرنے سے انکار کردیا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ایران کو یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے جو ڈیڈ لائن دی تھی وہ گزر چکی ہے۔
|