ایران پر نئی پابندیوں پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن اور جرمنی جمعرات کو ایران پر مزید پابندیاں لگانے کے نئے مسودے پر غور کریں گے۔ یہ اعلان لندن میں سینئر سفارتکاروں کی اس ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایران کے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو بند کرنے سے انکار پر بات چیت کی گئی۔ سفارتکار اس بات کا جائزہ لیتے رہے کہ ایران کے انکار پر کس طرح ردِ عمل ظاہر کیا جائے۔ دوسری طرف امریکہ نے لندن مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین ملک اور جرمنی کے سینئر سفارتکار جمعرات کو ٹیلیفون پراقوامِ متحدہ کے ایران پر پابندیوں کے نئے مسودے پر بات کریں گے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ لندن مذاکرات سے واضح طور پر کچھ سامنے نہیں آیا لیکن امریکہ کے مطابق یہ تہران پر دباؤ ڈالنے کے لیے پہلا قدم ہے۔
لندن میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق ایران پر لگی ہوئی حالیہ محدود پابندیوں نے بھی اثر دکھانا شروع کر دیا ہے۔ ایران میں اصلاح پرستوں نے صدر احمدی نژاد پر کڑی تنقید کی ہے کہ اقوامِ متحدہ سے جھگڑے سے معیشت تباہ ہو جائے گی۔ دریں اثناء امریکہ نے ایران پر فوجی کارروائی کے اشاروں کو نظر انداز کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کا ایران پر قبضہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ بی بی سی کے واشنگٹن میں نامہ نگار کے مطابق امریکہ یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ حقیقی طور پر سفارتی حل کی کوششیں کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں ایران کو کونڈولیزا رائس کی پیشکش26 February, 2007 | آس پاس ’جوہری ٹیکنالوجی بغیربریک کی ٹرین‘25 February, 2007 | آس پاس امریکی حملے کا خطرہ نہیں: ایران24 February, 2007 | آس پاس ایران:’ہرممکن حد تک دفاع کریں گے‘23 February, 2007 | آس پاس ’ایران نے ڈیڈلائن پر عمل نہیں کیا‘22 February, 2007 | آس پاس افزودگی کی بندش کا مطالبہ مسترد23 February, 2007 | آس پاس ایٹمی صلاحیت جلد از جلد: ایران21 February, 2007 | آس پاس ایران: امریکی حملے کی ’تفصیلات‘20 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||