BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 February, 2007, 10:13 GMT 15:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران:’ہرممکن حد تک دفاع کریں گے‘
جوہری پروگرام
ایران نےتین سو سے زائد نئے سینٹری فیوجز لگا دیے ہیں: آئی اے ای اے
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اپنے جوہری پروگرام کا ہر ممکن حد تک دفاع کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دشمنوں کے سامنے کمزور نہیں پڑ سکتا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ماضی میں پرامن جوہری پروگرام کے حوالے سے کیے جانے والے سمجھوتوں کے نتیجے میں صرف مغرب کے مطالبات میں ہی اضافہ ہوا ہے۔

ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے ( IAEA ) کی نئی رپورٹ کے بعد ایرانی صدر کا یہ پہلا بیان ہے۔


عالمی جوہری ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی روکنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی طرف سے دی جانے والی اکیس جنوری کی ڈیڈ لائن کو نظر انداز کیا ہے اور تین سو سے زائد نئے سینٹری فیوجز لگا دیے ہیں۔

ادھر سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے نمائندے پیر کو لندن میں ایران پر مزید پابندیاں لگانے کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔امریکی نائب وزیرِ خارجہ نکولس برنز کے مطابق اس ملاقات میں ایران کے خلاف پابندیوں کی ایک اور قرارداد کے مسودے پر بات ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جوہری معاملات پر ایرانی رویے نے عالمی برادری کو زچ کر دیا ہے۔

ایران نے اقوام متحدہ کے اس مطالبے کو بھی دوبارہ مسترد کر دیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی بند کر دے۔جوہری معاملات کے ایک ایرانی اہلکار محمد سعید نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایسا مطالبہ کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور مغربی ممالک کے ان دعوؤں میں کوئی سچائی نہیں کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

ایرانی اہلکار محمد سعید کا کہنا تھا ’ایران سمجھتا ہے کہ یورینیم کی افزودگی معطل کرنا اس کے حقوق، بین الاقوامی قوانین اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے خلاف ہے‘۔

مزید پابندیوں پر غور
 اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی پیر کو لندن میں ایک اجلاس کر رہے ہیں جس میں ایران پر مزید پابندیاں لگانے پر غور کیا جائے گا

ان کا کہنا تھا کہ ان عوامل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کا ملک سکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 1737 کو تسلیم نہیں کرتا، جس کے تحت ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی معطل کر دے۔ انہوں نے کہا ’مسئلہ حل کرنے کا بہترین طریقہ مذاکرات میں پوشیدہ ہے‘۔

ادھر جرمنی کے شہر برلن میں موجود امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے بھی کہا ہے کہ امریکہ، روس، جرمنی اور یورپی یونین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی طرح ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد