افزودگی کی بندش کا مطالبہ مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے اقوام متحدہ کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی بند کر دے۔جوہری معاملات کے ایک ایرانی اہلکار محمد سعید نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایسا مطالبہ کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ ایرانی اہلکار محمد سعید کا کہنا تھا ’ایران سمجھتا ہے کہ یورینیم کی افزودگی معطل کرنا اس کے حقوق، بین الاقوامی قوانین اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے خلاف ہے‘۔ یہ بیان عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے ( IAEA ) کی ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر ایک نئی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔ عالمی جوہری ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی روکنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی طرف سے دی جانے والی اکیس جنوری کی ڈیڈ لائن کو نظر انداز کیا ہے اور تین سو سے زائد نئے سینٹری فیوجز لگا دیے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور مغربی ممالک کے ان دعوؤں میں کوئی سچائی نہیں کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان عوامل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کا ملک سکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 1737 کو تسلیم نہیں کرتا، جس کے تحت ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی معطل کر دے۔ انہوں نے کہا ’مسئلہ حل کرنے کا بہترین طریقہ مذاکرات میں پوشیدہ ہے‘۔ ادھر جرمنی کے شہر برلن میں موجود امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے بھی کہا ہے کہ امریکہ، روس، جرمنی اور یورپی یونین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی طرح ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائے۔ | اسی بارے میں ایٹمی صلاحیت جلد از جلد: ایران21 February, 2007 | آس پاس ایران: امریکی حملے کی ’تفصیلات‘20 February, 2007 | آس پاس تہران میں پاکستانی سفیر کی طلبی18 February, 2007 | آس پاس ’ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے‘ 13 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||