اور کڑی پابندیوں کی امریکی کوشش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کے تسلسل کے نتیجے میں وہ تہران کے خلاف اب مزید تکلیف دہ پابندیوں کی کوشش کرے گا۔ اقوامِ متحدہ نے ایران کو یورینیئم کی افزودگی بند کرنے کے لیے ساٹھ دن کی مہلت دی تھی لیکن یہ مہلت گزر چکی ہے اور جلد ہی اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں یہ کہا جائے گا کہ ایران نے اپنی سرگرمیاں بند نہیں کیں۔ امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ نکولس برنز نے الزام لگایا ہے کہ ایران اپنی جوہری خواہشات کی تکمیل کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے چند ہفتوں میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ کوشش کی جائے گی کہ ایرانی حکومت پر مزید کڑی پابندیاں عائد کی جائیں۔ ایٹمی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرداعی سلامتی کونسل میں یہ رپورٹ پیش کرنے والے ہیں کہ تہران نے یورینیم کی افزودگی بند نہیں کی۔ محمد البرداعی کی جانب سے سلامتی کونسل میں یہ رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد مبصرین کے خیال میں ایران پر زیادہ سخت بین الاقوامی پابندیوں کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ ایران کے خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق بدھ کو صدر احمدی نژاد نے کہا کہ ایران جوہری صلاحیت کو جتنا جلد ممکن ہوا حاصل کر لے گا۔ تاہم پہلی مرتبہ ایران میں کسی سیاسی جماعت نے صدر احمدی نژاد سے کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے مطالبات مان لیں۔اسلامی انقلابی مجاہدین کی تنظیم ایک چھوٹی جماعت ہے لیکن اس نے شکایت کی ہے کہ ایران کی جوہری توانائی کے حصول کی کوشش سے ملکی سلامتی اور قومی مفادات خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ تہران میں بی بی سی کی نامہ نگار فرانسس ہیرسن کہتی ہیں کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی جماعت نے صدر احمدی نژاد کی جوہری پالیسی کی کھلے عام مخالفت کی ہو۔ تاہم ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی کا حصول ان کے ملک کے لیے اتنا اہم کہ اگر اسے دوسری تمام سرگرمیاں بند کرنے پر مجبور بھی کر دیا جائے تو بھی اسے ترجیح دی جا سکتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کا ملک جلد از جلد ایٹمی صلاحیت حاصل کر لے۔ گزشتہ روز جوہری مذاکرات پر ایرانی ٹیم کے سربراہ علی لاریجانی نے اپنے ملک کے خلاف طاقت کے ممکنہ استعمال کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاملہ صرف مذاکرات کے ذریعہ طے ہو سکے گا۔ ویانا میں ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے سربراہ سے ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ ایران یہ یقین دہانی کرانے کے لیے تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی جانب رخ نہیں کرے گا۔ علی لاریجانی نے ایران کے خلاف جاری ’غیر دانشمندانہ باتوں‘ سے خبرادار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ گزشتہ برس ایران نے یورینیئم کی افزودگی دوبارہ شروع کر دی تھی۔ اس عمل سے بجلی گھروں کے لیے ایندھن بھی بن سکتا ہے اور اگر یورینیئم کو نہایت نفاست کے ساتھ افزودہ کیا جائے تو جوہری بم بنایا جا سکتا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے جاری رکھنا چاہتا ہے لیکن مغربی ممالک کو شبہہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ |
اسی بارے میں ایٹمی صلاحیت جلد از جلد: ایران21 February, 2007 | آس پاس ایران: امریکی حملے کی ’تفصیلات‘20 February, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||