’جوہری ٹیکنالوجی بغیربریک کی ٹرین‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کے لیے ایک اور ’سرکش پیغام‘ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کی واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ تہران میں ایک تقریر کے دوران صدر احمدی نژاد نے ایران کی جوہری ٹیکنالوجی کا موازنہ ایک ایسی ٹرین سے کیا ہے جس کی نہ تو بریکیں ہیں اور نہ ہی ریورس گیئر۔ ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو ہر طرح کے حالات حتٰی کہ جنگ تک کے لیے تیار کرلیا ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت پر جاری ہوئے ہیں جب ایران پر اقوام متحدہ کی جانب سے مزید پابندیاں عائد کی جارہی ہیں کیونکہ یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی مقرر کردہ ڈیڈ لائن کو ایران نے نظر انداز کردیا ہے۔ قومی ٹیلیویژن پر اتوار کو یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ ایران نے اپنا پہلا راکٹ کامیابی سے خلا میں بھیج دیا ہے جس کے بارے میں تشویش ظاہر کی جارہی ہے کہ وہ ایسے راکٹوں کو فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال کرسکتا ہے۔ اس سے قبل امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی تنبیہ کو نہ ماننے پر ایران کو نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ بین الاقوامی جوہری ادارے کے سربراہ محمد البرادعی کی تہران آمد کے موقع پر ایران کے صدر نے کہا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اس کو جاری رکھیں گے۔ | اسی بارے میں ایران کونتائج بھگتنے ہوں گے:امریکہ13 April, 2006 | آس پاس ایران کے لیے نیا مسودۂ قرارداد تیار09 December, 2006 | آس پاس احمدی نژاد: قرارداد کاغذ کا پرزہ ہے24 December, 2006 | آس پاس ایٹمی صلاحیت جلد از جلد: ایران21 February, 2007 | آس پاس ایران پر امریکی صدر کا دباؤ14 February, 2007 | آس پاس ’ایران نے ڈیڈلائن پر عمل نہیں کیا‘22 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||