ڈیڈلائن ختم، ایران موقف پر قائم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی ایران کو جوہری معاملے پر دی گئی مہلت کے خاتمے پر ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ تہران کسی بھی دباؤ میں نہیں آئے گا۔ ایرانی صدر نے ایک تقریر میں یہ بھی کہا ہے کہ ایران ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گا اور نہ ہی اپنے حقوق سے دستبردار ہو گا۔ اقوام متحدہ نے تہران کو یورینیم کی افزودگی اور تیاری روکنے کے لیئے اکتیس اگست کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ اقوام متحدہ کی ڈیڈلائن کی پاسداری نہ کرنے کی صورت میں امریکہ چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ قرارداد پر بحث کے بعد ایران پر پابندیاں لگا دے۔ اقوام متحدہ کی عالمی جوہری ادارے ( آئی اے ای ) نے اس سلسلے میں اپنی رپورٹ سلامتی کونسل کو پیش کرے گا۔ خیال ہے کہ رپورٹ میں کہا جائے گا کہ ایران نے ڈیلالائن ختم ہونے پر عمل نہیں کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے امریکی سفیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ ایران اچھی طرح سے جانتا ہے کہ اگر اس نے اقوام متحدہ کی بات نہ مانی تو اس پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ سفیر نے یہ بھی کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران نے کئی بار ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ڈیڈلائن کی پاسداری نہ کی تو اس پر پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔ امریکی وزیر شون مکامک نے کہا ہے کہ امریکی نائب وزیر خارجہ نکولس برنز اور برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی کے اعلی افسران اس معاملے پر بات چیت کے لیئے اگلے ہفتے یورپ میں ملاقات کریں گے۔ ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ ایران پرکس قسم کی پابندیاں لگائی جائیں گی۔ روس اور چین نےاس معاملے میں تحمل سے کام لینے کو کہا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایران پرکسی بھی قسم کی سخت پابندیاں لگانے کی تائید نہیں کریں گے۔ روس اور چین سیکورٹی کونسل کے اقدامات کو ویٹو بھی کر سکتے ہیں۔ ایران اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے کہ اسے پر امن مقاصد کے لیئے جوہری پروگرام کو جاری رکھنے کا حق ہے۔ تاہم مغربی طاقتوں کا کہنا ہے کہ ایران ایٹم بم بنانے کے کوشش کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس کی تحقیق کے مطابق ایران نچلی سطح کی یورینیم کی افزودگی کر رہا ہے اور ایران اقوام متحدہ عالمی جوہری توانائی کے ادارے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکارنے کہا ہے کہ ایران صرف یورینیم کی افزودگی کے عمل اور ٹیکنالوجی سے واقفیت کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس سے تیار ہونے والے مواد سے بم بنانا ممکن نہیں ہوگا۔اس اہلکار نے یہ باتیں نام نہ بتانے کی شرط پر بتائی ہیں۔ ہفتے کے روز ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے بھاری پانی کے ری ایکٹر پروجیکٹ کے ایک نئے مرحلے کا افتتاح کیا تھا۔ بھاری پانی کے ری ایکٹر سے پلوٹونیم بنایا جا سکتا ہے جو نیوکلیئر ڈیوائس کے لیئے یورینیم کا متبادل ہو سکتا ہے۔ ایرانی صدر نے اس موقع پر دوبارہ کہا تھا کہ وہ اپنے نیوکلیئر پروگرام کو ختم نہیں کریں گے کیونکہ ایٹمی ہتھیار بنانا ان کا مقصد نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایٹمی ہتھیار کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا اور نہ ہی وہ کسی کے لیئے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ حتی کہ وہ ’صیہونیت کے لیئے بھی خطرہ نہیں ہیں جو کہ اس علاقے کے لوگوں کے ازلی دشمن ہیں‘۔ | اسی بارے میں ایران کا معاملہ پھر اقوام متحدہ میں؟27 August, 2006 | آس پاس احمدی نژاد کا جارج بش کو چیلنج30 August, 2006 | آس پاس محمد خاتمی کو امریکی ویزہ30 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||