 | | | ایٹمی پروگرام پرامن ہے: ایرانی صدر |
ایران کے صدر احمدی نژاد نے امریکی صدر جارج بش کو عالمی معاملات کے بارے میں ٹیلی ویژن پر لائیو مباحثے کے لیے چیلنج کیا ہے۔ ایرانی صدر نے امریکہ اور برطانیہ پر ’اپنی خصوصی حیثیت‘ کے غلط استعمال کا الزام لگایا اور کہا کہ مباحثے کے ذریعے فریقین کو اپنی بات دنیا کے سامنے بغیر کسی سنسر کے رکھنے کا موقع ملے گا۔ وائٹ ہاؤس نے صدر احمدی نژاد کے اس چیلنج کو ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بین الاقوامی خدشات سے دنیا کی توجہ ہٹانے کا حربہ قرار دیا ہے۔ ایرانی صدر کا بیان اقوام متحدہ کی اس ڈیڈلائن سے دو روز قبل آیا ہے جس میں ایران سے اپنے ایٹمی پروگرام کو ملتوی کرنے کی بات کی گئی ہے۔ صدر احمدی نژاد نے کہا کہ ان کی حکومت نے مزید مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک کی تجویز پیش کش کی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اس کے پرامن ایٹمی پروگرام سے نہیں روکا جاسکتا۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ ’پرامن ایٹمی توانائی ایرانی قوم کا حق ہے۔‘ صدر احمدی نژاد نے مزید کہا کہ ایرانی قوام نے بین الاقوامی ضوابط کی بنیاد پر اپنی راہ چنی ہے اور وہ ایٹمی توانائی کا استعمال کرنا چاہتی ہے اور اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی طاقتوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے پیکج کے جواب میں ایران کی پیشکش ایٹمی تنازعے کے حل کے لیے ایک ’غیرمعمولی موقع‘ ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران یورینیم کی افزودگی ملتوی کرسکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ کسی بھی طرح کا ڈائیلاگ ایرانی قوم کے ’حقوق‘ پر مبنی ہونا چاہیئے۔ ’میں مسٹر جارج بش کے ساتھ ایک لائیو ٹی وی مباحثے کا انعقاد کی تجویز دیتا ہوں، عالمی امور کے بارے میں اور ان معاملات کے حل کے طریقوں کے بارے میں۔‘
|