برطانوی فوجیوں نے’اعتراف‘ کرلیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی فوج کے ترجمان جنرل علی رضا افشر نے ایک ایرانی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے دعوٰی کیا ہے کہ خلیج فارس سے پکڑنے جانے والے تمام برطانوی فوجیوں نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ وہ گرفتاری کے وقت ایرانی سمندری حدود میں تھے۔ جنرل علی رضا نے یہ بھی بتایا کہ تمام فوجیوں سے تفتیش جاری ہے اور وہ صحت مند ہیں۔ تاہم ایران نے یہ نہیں بتایا کہ یہ فوجی اس وقت کہاں ہیں۔ ایران میں برطانوی سفارت خانے کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ انہیں اب تک ان برطانوی فوجیوں تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے خبر دی تھی کہ ایرانی افواج نے برطانوی بحریہ کے پندرہ فوجیوں کو تہران منتقل کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق برطانوی فوجی بارہ بجے دوپہر تہران پہنچ گئے تھے۔ خبر رساں ادارے فارس کے مطابق پندرہ برطانوی فوجیوں سے ان کے ’جارہانہ‘ رویہ پر سوال کیے جائیں گے۔ فارس کا یہ بھی کہنا ہے کہ برطانوی بحریہ کی جنگی کشتیوں پر لگے سیٹلائٹ نظام سے ثابت ہو چکا ہے کہ یہ کشتیاں ایرانی پانیوں میں تھیں۔ تاہم بعد میں خبر رسان ادارے فارس نے یہ خبر اپنی ویب سائٹ سے اتار لی اور اس خبر کی تصدیق یا تردید کے بارے میں کوئی خبر جاری نہیں کی۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ یہ فوجی خلیج فارس کے عراقی حصہ پر حسب معمول اپنے فرائض انجام دے رہے تھے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ یہ برطانوی فوجی ’غیر قانونی‘ طور پر ایران کی سمندری سرحدوں کو عبور کر چکے تھے۔ برطانیہ نے ان فوجیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ادھر لندن میں بی بی سی کے ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ کے جونئیر وزیر لارڈ ٹریسمین ہفتے کے روز ایرانی سفارتکار سے ملاقات کر کے ان برطانوی فوجیوں کی رہائی کا مطالبہ کریں گے۔ ان پندرہ برطانوی فوجیوں کو، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے، اس وقت قبضے میں لیا گیا تھا جب انہوں نے خلیج فارس میں ایک کشتی کو روکا اور اس میں داخل ہوئے۔ ان فوجیوں کا تعلق برطانوی بحریہ کے جہاز ’ایچ ایم ایس کارنوال‘ سے ہے جو عراقی پانیوں میں مقیم اتحادی فوجیوں کا پرچم بردار جہاز ہے۔ اس کا مرکزی مقصد ان پانیوں میں ہونے والی سمگلنگ کو روکنا ہے۔ جہاز کے کمانڈر کموڈور نِک لینبرٹ نے کہا کہ ’یہ فوجی عراقی پانیوں میں ایک عراقی کشتی کا معائنہ کر کے اپنی دو چھوٹی کشتیوں کو لوٹے تو انہیں فوراً ’گرفتار‘ کر لیا گیا۔ وہاں موجود ہیلی کاپٹر سے دیکھا گیا کہ ان کشتیوں کو ایرانی اڈوں کی طرف موڑ دیا گیا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کی لڑائی کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ مغربی اور یورپی معاملات کے حوالے سے ایرانی ڈائریکٹر جنرل ابراہیم رحیم پور نے کہا ہے کہ انہوں نے تہران میں مقیم برطانوی سفارت کار کیٹ سمتھ سے ملاقات کے دوران ایرانی پانیوں میں برطانوی فوجیوں کی غیر قانونی مداخلت پر پرزور احتجاج کیا ہے۔ تاہم برطانوی بحریہ کے سابق سربراہ سر ایلن ویسٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ سیٹلائٹ ٹریکنگ سسٹمز سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ کشتیاں عراقی پانیوں میں تھیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران کے ایٹمی تنازعے پر مغربی ممالک اور ایران کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔ حال ہی میں عراق کے شہر بصرہ میں برطانوی فوجیوں کے خلاف تشدد کے لیے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||