BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 August, 2006, 07:17 GMT 12:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی فوجیوں کے لیئے معافی
ہیری کو 25 سال کی عمر میں گولی ماری گئی
برطانیہ کی وزارت دفاع نے پہلی جنگ عظیم کے دوران فوجی خلاف ورزیوں کی سزا میں ہلاک کیے جانے والے 300 سے زائد فوجیوں کو معافی دینے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر دفاع ڈیس براؤن کا کہنا ہے کہ پارلیمان سے منظوری کے بعد ان فوجیوں کو معافی دے دی جائے گی۔

خیال ہے کہ 1914-1918 کی جنگ غطیم اول کے دوران 306 برطانوی فوجیوں کو فوج سے بھاگنے، بزدلی کا مظاہرہ کرنے یا دیگر ایسی ہی خلاف ورزیوں پر گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

انہیں میں ایک 25 سالہ فوجی پرائیویٹ ہیری بھی شامل ہے جسے 1916 میں بزدلی کا مظاہرہ کرنے پر گولی مار دی گئی تھی۔

ہیری کا خاندان برسوں سے اس کوشش میں رہا کہ اسے معافی دے دی جائے۔ ہیری کے ورثاء کا کہنا ہے کہ وہ بزدل نہیں تھا بلکہ ’شاک‘ یا صدمہ کی کیفیت میں تھا۔

ڈیس براؤن کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں کے خاندانوں کے لیئے سالہا سال سے اس ’بدنامی‘ کو برداشت کرنا آسان نہیں ہوگا۔ چنانچہ یہ ایک اخلاقی معاملہ بھی ہے اور میرا خیال ہے کہ ان سب کو قانونی طور پر معافی دے دینی چاہیئے‘۔

ان کا خیال ہے کہ فوج کے قانون میں جلد از ترمیم کی جانی چاہیئے تاکہ معافی ممکن ہوسکے۔ ڈیس براؤن کے مطابق ’جنگ کے 90 سال بعد ہر ایک فوجی پر الزام ثابت کرنے کے لیئے شواہد موجود ہی نہیں ہیں تاہم یہ بھی واضح ہے کہ ان میں سے کچھ کو غیر منصفانہ رویے کا سامنا کرنا پڑا‘۔

اب یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ بہت سے فوجی جنہیں ڈرپوک ہونے پر گولی ماری گئی، دراصل کئی ماہ کی بمباری کے بعد ایک بیماری ’پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر‘ کا شکار تھے۔

تقریباً ان سب ہی کے ورثاء کئی سالوں سے معافی حاصل کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ 1990 میں ایسے کئی مقدمات مسترد کردیئے گئے تھے لیکن 2005 میں اس وقت امید کیایک کرن پیدا ہوئی جب جج نے کہا کہ ان معاملات میں ’بحث کی گنجائش ہے‘۔

منگل کے اعلان کے بعد پیٹ فار کی بیٹی، جو کہ اب 90 برس کی ہیں‘ کہتی ہیں کہ انہیں اب بھی یقین نہیں آرہا کہ ایسا ہوچکا ہے۔ ’میں دعا کرتی تھی کہ ایسا ہوجائے لیکن کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ میری زندگی میں ہی ہوجائے گا‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد