ہیرو شیما میں قیامت کی یادہانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھ اگست 1945 کو بم گرانے والے طیارے کے لوگوں نے کیا محسوس کیا اور سنیچر کو ساٹھ سال بعد اس دن کو کیسے یاد کیا کون ہو گا جو اس بارے میں جاننا نہیں چاہے گا۔ ٹھیک ساٹھ سال پہلے یعنی 6 اگست 1945 کو صبح آٹھ بجے کے قریب جاپان کے شہر ہیروشیما کے آسمان پر ایک امریکی جنگی طیارہ نمودار ہوا اور ٹھیک سوا آٹھ بجے ایک بم گرا کر واپس مڑ گیا۔ طیارے کے عملے میں شامل ایک اہلکار ایٹم بم گرانے کا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’ہمیں پتہ تھا کہ بم پھٹنے میں تینتالیس سیکنڈ لگیں گے۔ اور ہم سب گنتی گن رہے تھے۔ بم پھینکنے کے بعد ہم نے جہاز کا رخ موڑا اور وہاں سے بھاگنے کی فکر کی۔ سائنسدانوں نے ہمیں بتا دیا تھا کہ اگر ہم وہاں سے بارہ میل دور ہونگے تو جہاز کو کچھ نہیں ہوگا۔ ہمیں جہاز میں سے دور روشنی کا ایک جھماکہ نظر آیا۔ بالکل ایسے جیسے اندھیرے کمرے میں تصویر اتارتے ہوئے فلیش لائٹ کے جھماکے سے ہوتا ہے۔ کچھ ہی دیر بعد پہلی برقی مقناطیسی لہریں جہاز سے ٹکرائیں اور جہاز کو زور کا جھٹکا لگا ہم جہاز میں ہی اچھل کر نیچے آ گِرے‘۔ اس کے نتیجے میں ساڑھے تین لاکھ کی آبادی کے اس شہر کی ایک تہائی لوگ ہلاک ہوئے۔ جن میں سے ہزاروں تو موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جب کہ باقی جلنے یا تابکاری کے اثرات سے ہلاک ہوئے۔ آج تک ہلاکتوں کی صحیح تعداد کا کسی کو علم نہیں ہو سکا۔
ایٹم بم نے جس جگہ کو نشانہ بنایا تھا وہاں اب امن کے نام پر ایک پارک تعمیر کیا گیا ہے جہاں سنیچر کو پچپن ہزار لوگ اُس ہولناک لمحے کی یاد میں جمع ہوئے اور ہلاک ہونے والوں کی یاد میں گھنٹیاں بجائی گئیں۔ پارک میں بڑے بڑے رہنماؤں کے ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جنہوں نے ہیروشیما کی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان وہاں موجود نہیں تھے لیکن ان کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں کہا گیا کہ دنیا نے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بہت کم کام کیا ہے۔ ہیروشیما کے میئر تادا توشی اکیبا نے کہا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا صحیح طریقہ صرف یہ ہے کہ دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا ’چھ اگست، ایٹم بم کی ساٹھویں برسی، اجتماعی فریاد اور افسوس کا لمحہ ہے، ان تین لاکھ لوگوں کی یاد میں جو اس ایٹم بم کے حملے میں ہلاک ہوئے اور وہ جو اس میں زندہ بچ گئے۔ اس دن کی یاد زندگی اور موت کے درمیان کھنچی لکیر مٹا دیتی ہے‘۔ ہیروشیما کے میئر کا کہنا تھا کہ ’یہ دن صرف ہوش میں آنے ہی کا نہیں ایک نئے عزم کا بھی ہے۔ اس نئے عزم جو ہمیں ایٹم بم سے بچ جانے والوں سے ورثے میں ملا اور یہ عزم یہ ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ کر دیا جائے اور دنیا میں صحیح معنوں میں امن ہو۔ ہمیں اپنی ذاتی ذمہ داریاں محسوس کرنی ہونگی اور ان پر عمل کرنے کا عزم کرنا ہوگا‘۔
جاپان کے وزیر اعظم جونی چیرو کوئی زومی نے کہا کہ ایٹم بم گرنے کے بعد ہیروشیما امن کی علامت بن گیا ہے اور اس شہر کے لوگوں نے امن کے لیے انتھک کوششیں کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’جاپان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس پر ایٹم بم گرایا گیا۔ ہیروشیما اور ناگاساکی جیسا سانحہ کبھی نہیں ہونا چاہیے۔ ہم مضبوط عزم کے ساتھ اپنے آئین پر ڈٹے رہیں گے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر قائم رہیں گے‘۔ ہیروشیما میں آج کی تقریبات پانچ سو لوگوں کے ایک امن کے گانے پر ختم ہوئیں۔ امریکہ کا ایٹم بم گرانے کا فیصلہ درست تھا یا غلط، ساٹھ سال گزرنے کے بعد بھی اس پر بحث جاری ہے۔ اس فیصلے کے حق میں دلائل دینے والے کہتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم پانچ سال سے جاری تھی۔ اس میں پہلے ہی لاکھوں لوگ ہلاک ہو چکے تھے اور اسے ختم کرنے کا کوئی طریقہ نظر نہیں آتا تھا۔ اگر ایٹم بم نہ گرایا جاتا تو شاید جنگ سالوں جاری رہتی اور مزید لاکھوں لوگ ہلاک ہوتے۔
لیکن اس فیصلے کے خلاف دلائل دینے والے لوگ کہتے ہیں کہ جاپان کی پوزیشن بہت خراب ہو چکی تھی اور شاید وہ ہتھیار ڈالنے کے قریب تھا۔ اگر امریکہ اور روس مل کر جاپان پر دباؤ ڈالتے اور ہتھیار ڈالنے کی شرائط بہت سخت نہ رکھتے تو جاپان ہتھیار ڈال دیتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||