| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران ایٹمی معائنہ کاری کے لئے تیار
ایران نے کہا ہے کہ اس کے ایٹمی پروگرام پر پیدا ہونے والے اختلافات کے باوجود وہ اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کے ساتھ کام کرتا رہے گا۔ ایرانی ایٹمی پروگرام کے سربراہ غلام رضا آغازادہ نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل ایٹومِک اینرجی ایجنسی یعنی آئی اے ای اے کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے تیار ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس معاہدے کے تحت اے ای آئی اے کے انسپکٹروں کو ایران کی ایٹمی تنصیبات کا اچانک معائنہ کرنے کا حق ہوگا۔ غلام رضا آغازادہ کا بیان اہم سمجھا جارہا ہے۔ امریکہ اور آئی اے ای اے نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر حالیہ دنوں میں اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ آغازادہ نے کہا: ’ایران ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پورا پابند ہے، صرف اس لئے نہیں کہ یہ اس کی قانونی ذمہ داری ہے، بلکہ اس لئے بھی کہ ایسا کرنا مذہبی اور اخلاقی اقدار کا اعادہ ہوگا۔‘
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آغازادہ کے بیان سے اس طرح کی قیاس آرائیاں ختم ہوجائیں گی کہ ایران آئی اے ای اے کے ساتھ اپنے تعلقات توڑ لے گا۔ ایران میں قدامت پسند مذہبی رہنما اس بات کا مطالبہ کررہے ہیں کہ ایران آئی اے ای اے کے ساتھ کام کرنا بند کردے۔ چند روز قبل ایرانی مندوبین نے اس موضوع پر ہونے والی ایک کانفرنس سے واک آؤٹ کیا تھا۔ آئی اے ای اے کے گورنروں نے ایران سے کہا تھا کہ وہ اکتیس اکتوبر سے قبل اس بات کا فیصلہ کرے کہ وہ اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کو ایرانی ایٹمی تنصیبات کا اچانک معائنہ کرنے کا حق دے گا یا نہیں۔ امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے ایک منصوبے پر کام کررہا ہے۔ آئی اے ای اے کا اگلا اجلاس نومبر میں ہوگا جہاں یہ طے کیا جائے گا کہ ایران اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کا ساتھ دے رہا ہے یا نہیں۔ ورنہ اس اجلاس میں اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے پر فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |