BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 July, 2005, 07:44 GMT 12:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنگ عظیم: ہندوستان کا کردار بھلا دیا گیا

جنگ عظیم میں سکھ فوجی
برما کے محاذ پر ایک سکھ فوجی
برطانیہ میں جنگ عظیم دوئم میں کامیابی کی یاد منائی جا رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس جنگ میں اتحادی فوجوں کو شکست کی صورت میں دنیا کی تاریخ مختلف ہوتی۔


دیگر ممالک کی طرح غیر منقسم ہندوستان نے بھی اس کامیابی کے لیے بھاری قیمت ادا کی لیکن جنگ کے اس باب کا بہت کم ذکر سننے میں آتا ہے۔

جنگ عظیم میں کامیابی کو جمہوریت اور آزادی پر یقین رکھنے والی قوتوں کی جبر کے خلاف کامیابی بھی کہا جاتا ہے۔ جنگ کے دوران لاکھوں انسان زخمی یا ہلاک ہوئے۔ شہر کے شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے۔

وکٹوریا کراس جیتنے والے سکھ فوجی
وکٹوریا کراس جیتنے والے سکھ فوجی

دوسری عالمی جنگ کی یاد ہر سال یورپ کے مختلف ممالک میں بڑے زور شور سے منائی جاتی ہے۔ جنگ میں حصہ لینے والوں کے کردار کو سراہا جاتا ہے اور انہیں یاد کیا جاتا ہے۔

لیکن جنگ میں غیر منقسم ہندوستان کے لاکھوں کروڑوں افراد کی جنگ میں براہ راست یا بلاواسطہ شمولیت کا ذکر عام طور پر رسمی ہوتا ہے۔ ہندوستانی فوجیوں کے لیے لندن میں یادگار نومبر دو ہزار تین میں تعمیر ہوئی جبکہ ایک مؤرخ نے کہا کہ جنگی قیدی بننے والے ہندوستانیوں کی گرانٹس کا معاملہ اب بھی حل طلب ہے۔

دوسری جنگ عظیم میں پچیس لاکھ سے زیادہ ہندوستانی فوجیوں نے حصہ لیا۔ ان میں سے چھتیس ہزار ہندوستانی ہلاک یا لاپتہ اور چونسٹھ ہزار تین سو چوّن زخمی ہوئے۔ چار ہزار ہندوستانیوں کو بہادری کے اعزازات ملے جن میں سے اکتیس کو سب سے بڑا فوجی اعزاز وکٹوریہ کراس دیا گیا۔ اس جنگ میں اسّی ہزار ہندوستانی جنگی قیدی بنے۔

برطانیہ میں بریڈفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر صمد یونس نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ عالمی جنگ میں اتحادی فوج کی کامیابی میں ہندوستانی فوجیوں کا کردار بہت اہم تھا۔

ڈاکٹر یونس نے کہا کہ ہندوستانی فوجیوں نے یورپ اور افریقہ کے اہم معرکوں میں حصہ لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ لڑائی میں شمولیت کے علاوہ ہندوستان نے مالی طور پر بھی اس جنگ کا بوجھ اٹھایا۔

ڈاکٹر یونس نے کہا کہ جنگ میں حصہ لینے والے ہندوستانی فوجیوں کے اخراجات بھی ہندوستان کو اٹھانا پڑے تھے جس کا بوجھ ٹیکسوں کے ذریعے وہاں کے عام آدمی پر پڑا۔

جنگ میں ہندوستانیوں کے بلاواسطہ کردار کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر یونس نے کہا کہ بڑی تعداد میں سلہٹ سے تعلق رکھنے والی افراد نے جنگ کے دوران مرچنٹ نیوی میں اور میرپور کے لوگوں نے ساؤتھ شیلڈز کی اسلحہ فیکٹریوں میں کام کیا۔

انہوں نے بتایا کہ برطانوی فوج میں ہندوستانیوں کی بھرتی رضاکارانہ تھی۔ اس میں زیادہ تر پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسلمان اور سکھ شامل تھے۔ اس کے علاوہ پٹھانوں، راجپوتوں اور گورکھوں نے بھی جنگ میں حصہ لیا۔

اس سوال کے جواب میں کہ آیا ہندوستانیوں کے عالمی جنگ میں کردار کو تسلیم کیا جاتا ہے ڈاکٹر یونس نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے تک عام طور پر دولت مشترکہ اور ہندوستان کے جنگ میں کردار کا بہت کم ذکر ہوتا تھا۔

’افریقی اور افریقی کیریبیائی لوگوں نے بھی جنگ میں حصہ لیا تھا لیکن اس بات کو بھی ہندوستانیوں کے جنگ میں کردار کی طرح بھلا دیا گیا ہے‘۔ اسی شکایت کا اظہار جنگ عظیم میں حصہ لینے والے ہندوستانی فوجی بھی کر چکے ہیں۔

ڈاکٹر یونس نے کہا کہ برطانیہ میں اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے سماجی زندگی میں آگے بڑھنے کے بعد ہی عالمی جنگ کے اس باب کا ذکر ہونا شروع ہوا ہے۔

انہوں نے اس سلسلے میں بیرونس شیلا فلاتھر کا ذکر کیا اور کہا کہ ہاؤس آف کامنز اور انتظامیہ میں ہندوستانی نژاد افراد کی شمولیت سے عالمی جنگ کے بارے میں روایتی تاثر کو درست کرنے میں مدد ملی ہے۔

ڈاکٹر یونس نے کہا کہ اقلیتوں کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کے ماضی کے بارے میں بہتر معلومات سامنے آئیں گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد