جنگ عظیم کے 67 برس بعد واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک 79 سالہ جاپانی شخص جسے دوسری جنگ عظیم کےاختتام پر روس کے جزیرے سکاہلن میں چھوڑ دیا گیا تھا، اب 67 برس بعد اپنے وطن واپس لوٹ آیا ہے۔ یوشیتیرو ناکاگاوا جب اپنے چودہ روزہ دورے پر 67 سال بعد پہلی مرتبہ جاپان کی سرزمین پر پہنچے تو اپنے رشتہ داروں کو دیکھ کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ان کا کہنا ہے ’میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا کہ میں اپنے وطن واپس جاسکوں گا‘۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر 1945 میں بہت سے جاپانی فوجیوں اور شہریوں کو بحرالکاہل کے پار اور چین اور روس کے علاقوں میں تنہا چھوڑ دیا گیا تھا۔ یوشیتیرو ناکاگاوا کا کہنا ہے ’میں اس قدر خوش ہوں کہ الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا‘۔ اتنے برس بعد وہ صرف روسی زبان ہی میں بات کرسکتے ہیں۔ رشتہ داروں سے بات چیت کے لیئے انہوں نے ایک مترجم کا سہارا لیا ہے۔ یوشیتیرو ناکاگاوا پانچ برس پہلے جاپانی سفارتخانے سے رابطے میں آئے تھے۔ تاہم ابھی اس بارے میں زیادہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ جنگ عظیم کے بعد انہوں نے کن حالات میں زندگی گزاری۔ | اسی بارے میں جاپانی فوج کے انخلا کا فیصلہ20 June, 2006 | آس پاس اٹھائیس سال بعد ماں سے ملاقات28 June, 2006 | آس پاس جاپان:امریکی فوجی اڈہ نامنظور12 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||