BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 June, 2006, 11:53 GMT 16:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اٹھائیس سال بعد ماں سے ملاقات
چوئی گے وول اور کِم ینگ نیم
ماں کو یقین تھا کہ بیٹا زندہ ہے
جنوبی کوریا کا ایک باشندہ جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے انیس سو اٹھہتر میں شمالی کوریا نے اغوا کر لیا تھا اٹھائیس سال بعد اپنی ماں اور بہن سے ملا ہے۔

یہ ملاقات بڑے پیمانے پر خاندانوں کو ملانے کی تین روزہ کوششوں کا حصہ ہے جس میں کوریا کی جنگ میں بچھڑے والے اپنے رشتے داروں سے مل رہے ہیں۔

کِم ینگ نیم کا معاملہ خصوصی توجہ کا باعث ہے کیونکہ شمالی کوریا میں انہوں نے ایک جاپانی خاتون سے شادی کر لی تھی جو خود بھی مغوی تھیں۔ اس کیس کی وجہ سے شمالی کوریا اور جاپان کے تعلقات میں کشیدگی آ گئی تھی۔

 میں آپ کو صحت مند دیکھ کر بہت خوش ہوا ہوں۔ مت روئیں، آپ اس خوشی کے دن پر کیوں رو رہی ہیں؟
کِم ینگ نیم

جنوبی کوریا کے ٹیلیویژن کے مطابق دونوں ماں بیٹا جب گلے ملے تو کِم ینگ نیم نے اپنی ماں سے کہا کہ ’میں آپ کو صحت مند دیکھ کر بہت خوش ہوا ہوں‘۔ انہوں نے اپنی ماں سے کہا کہ ’مت روئیں، آپ اس خوشی کے دن پر کیوں رو رہی ہیں‘؟

اس کے بعد کِم اپنی ماں کے سامنے جھک گئے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ انہیں اتنی دیر نہ ملنے کے لیئے معافی طلب کر رہے ہوں۔

سول میں بی بی سی کے نمائندے چارلس سکینلن کے مطابق ان منتقسم خاندانوں کو تین دن کے لیئے سخت حفاظتی انتظامات کے تحت ملنے کی اجازت دی گئی ہے۔

کِم انیس سو اٹھہتر میں سولہ سال کی عمر میں ایک ساحلی علاقے سے غائب ہوئے تھے۔ وہ ان پانچ سو جنوبی کوریائی باشندوں میں سے ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں شمالی کوریا نے اغوا کیا تھا۔ ان میں سے بہت سے شمالی کوریا کے جاسوسوں کو تربیت دیتے تھے۔

کِم ینگ نیم کی لڑکپن کی تصویر
اب ان کی بیٹی کی عمر اٹھارہ سال ہے

شروع میں کِم کو مردہ تصور کر کے ان کی تلاش بند کر دی گئی لیکن بعد میں جاپانی حکام کی تحقیق سے پتہ چلا کہ وہ زندہ اور تندرست ہیں۔ انہوں نے ایک جاپانی لڑکی میگمی یوکوتا سے شادی کی جو تیرہ سال کی عمر میں اپنے گھر کے قریب سے اغوا ہو گئی تھیں اور وہ ایک بچی کے باپ بھی بنے۔

شمالی کوریا کا کہنا تھا کہ بعد میں انہوں نے خود کشی کر لی تھی لیکن ان کے والدین اس بات پر یقین نہیں رکھتے تھے اور ہمیشہ ان کہ بارے میں کسی بھی خبر کی تلاش میں رہتے تھے۔

خیال ہے کہ ان کی بیٹی جو کہ اب اٹھارہ سال کی ہیں اس ملاقات کے موقع پر موجود ہوں گی لیکن شاید وہ آزادی سے اظہار رائے نہ کر سکیں۔ شمالی کوریا نے کسی بھی جنوبی کوریائی باشندے کے اغوا کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

تاہم شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اِل نے تیرہ جاپانی باشندوں کے اغوا کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر معذرت بھی کی۔ اس کے بعد سے اب تک پانچ افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر شمالی کوریا کے جاسوسوں کو جاپانی زبان اور روایات کی تربیت دیتے تھے۔

جاپانی کھلونے، بڑوں کیلیے کیوں؟
جاپانی کھلونے، بچوں سے بڑوں کے تک
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد