BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 June, 2006, 11:20 GMT 16:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی کوریا کو پھر امریکی تنبیہہ
شمالی کوریا کا ’سکڈ بی‘ میزائل
شمالی کوریا کے میزائل پروگرام کی بنیاد ’سکڈ ٹیکنالوجی‘ ہے
امریکہ نے دوبارہ شمالی کوریا کو نئے میزائل کا تجربہ کرنے سے باز رہنے کا کہا ہے جس میں امریکہ تک مار کرنے کی صلاحیت ہے۔ خیال ہے کہ اس میزائل کا تجربہ اس ہفتے کے آخر میں کیا جا سکتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یہ تجربہ ’اشتعال انگیز‘ ہو گا۔ انہوں نے کوریا پر زور دیا کہ وہ جوہری مسئلے پر چھ فریقی مذاکرات کا راستہ اپنائے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ایسے تمام اقدامات کرے گا جو ’صورتحال کی نگرانی اور امریکہ کی حفاظت کے لیئے ضروری ہیں‘۔

انیس سو اٹھانوے میں بھی شمالی کوریا نے ایک دور مار میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ ’تیپودونگ 1‘ نامی دو ہزار کلومیٹر رینج کا یہ میزائل کوریا سے فائر کیا گیا اور یہ جاپان کے اوپر سے گزر کر بحرالکاہل میں گرا۔

امریکی حکام نے بتایا ہے کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ شمالی کوریا ایک نئے بین البراعظمی میزائل کے تجربے کی تیاری کر رہا ہے جس کی رینج اندازاً چھ ہزار کلومیٹر ہے۔

حکام کے مطابق ’تیپودونگ 2‘ نامی میزائل کا تجربہ اس ہفتے کے آخر میں کیئے جانے کا امکان ہے۔ واشنگٹن سے وزارت خارجہ کے ترجمان سین مک کورمک نے کہا ہے کہ اس عمل سے شمالی کوریا مزید تنہا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’شمالی کوریا کو چاہیئے کہ وہ اپنی توانایاں اور کوششیں چھ فریقی مذاکرات میں واپسی کے لیئے صرف کرے‘۔ ان چھ ممالک میں چین، روس، جاپان اور جنوبی کوریا بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’ہمارے پاس ایسی تکنیکی سہولیات موجود ہیں جن سے ہم حالات کی نگرانی کر سکتے ہیں۔ ہم بلاشبہ کسی ممکنہ کارروائی اور اپنے دفاع کے لیئے ضروری اقدامات اور تیاری کریں گے‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس قسم کے میزائل کا تجربہ شمالی کوریا کی جانب سے انیس سو اٹھانوے میں اس قسم کی کارروائیوں سے باز رہنے کی یقین دہانی کی خلاف ورزی ہو گا۔

شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیئے جاری سفارتی عمل پچھلے سال اس وقت رک گیا تھا جب شمالی کوریا اس عمل سے دستبردار ہو گیا جس کی وجہ اس کے مطابق امریکہ کی مالی طاقت تھی۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا میزائل کے اس تجربے کا دباؤ ڈال کر مذاکرات کے تعطل کو ختم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ایران کے جوہری مسئلے میں امریکہ کی مصروفیت کے باعث شمالی کوریا کا معاملہ پس پشت چلا گیا تھا۔

اسی دوران شمالی کوریا نے امریکی جاسوسی طیارے پر جمعہ کے روز شمالی مشرقی ساحل کے علاقے میں ملکی حدود کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

اسی بارے میں
شمالی کوریا کی نئی شرائط
20 September, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد