شمالی کوریا کی نئی شرائط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوریا نے کہا ہے کہ وہ اپنے جوہری اسلحہ کے پروگرام کو اس وقت تک ترک نہیں کرے گا جبتک کہ اسے بجلی پیدا کرنے کے لیے ایک جدید جوہری ری ایکٹر نہیں دیا جاتا۔ شمالی کوریا نے پر امن مصارف کے لیے جوہری توانائی حاصل کرنے کے اپنے حق پر زور دیا ہے اور چین، جاپان، جنوبی کوریا، روس اور امریکہ سب نے شمالی کوریا کی شرائط پوری کرنے پر اپنی رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔ شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے یہ بیان پیونگ یانگ کے جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات میں ڈرامائی موڑ کے بعد آیا ہے۔ پیر کو شمالی کوریا نے اپنی تمام جوہری سرگرمیاں ترک کرنے اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں دوبارہ شمولیت پر رضامندی ظاہر کر دی تھی۔ پیر کو جاری ہونے والے بیان میں شمالی کوریا نے’ جلد از جلد تمام ایٹمی ہتھیار ختم کرنے، حالیہ جوہری پروگرام سے دست بردار ہونے اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں دوبارہ شمولیت پر رضامندی‘ ظاہر کی۔ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں شمالی کوریا کی دوبارہ شمولیت سے اقوامِ متحدہ کے ماہرین کو شمالی کوریا کی ایٹمی تنصیبات کے معائنے کا موقع ملے گا۔
اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارے کے سربراہ محمد البرادی نے کہا ہے کہ انسپکٹروں کو جلد از جلد شمالی کوریا چلا جانا چاہیے تاکہ شمالی کوریا نے جوہری اسلحہ کے استعمال کا جو وعدہ کیا ہے اس کی تصدیق کی جا سکے۔ شمالی کوریا کے حکام کی جانب سے یہ اعلان بیجنگ میں جاری چھ ملکی مذاکرات کے چوتھے دور کے اختتام پر کیا گیا۔ مذاکرات میں شریک تمام ممالک کے نمائندوں نے اس اعلامیے پر دستخط کیے اور نومبر میں دوبارہ ملاقات کا اعلان کیا۔ یہ معاہدہ اس وقت امید کی کرن کے طور پر سامنے آیا ہے جب یہ خدشات سامنے آنا شروع ہو گئے تھے کہ چھ ملکی مذاکرات ناکام رہیں گے۔ اس موقع پر چین کے نائب وزیرِ خارجہ وو داوی کا کہنا تھا کہ’ یہ دو برس قبل شروع ہونے والے چھ ملکی مذاکرات کا اہم ترین نتیجہ ہے‘۔ شمالی کوریا نے بجلی پیدا کرنے کے لیے ہلکے پانی کے جوہری ری ایکٹر کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکہ نے اس مطالبے کو فی الحال ناقابلِ عمل قرار دیا ہے تاہم پیر کو ہونے والے معاہدے میں امریکہ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اس معاملے پر مستقبل میں بات ہو سکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||