BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شمالی کوریا کے چھ ایٹمی ہتھیار‘
News image
شمالی کوریا اپنے جوہری پروگرام پر کثیرالجہتی مذاکرات سے گریز کر رہا ہے
اقوامِ متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس چھ کی تعداد تک جوہری ہتھیار ہو سکتے ہیں۔

حال ہی میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا جوہری بم کا تجربہ کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔

ویانا سے جہاں جوہری توانائی کے عالمی ادارے کا دفتر ہے، ہمارے نامہ نگار Bathny Bell نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ محمد البرداعی نے امریکی ٹی وی چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے یہ امکان ظاہر کیا کہ شمالی کوریا کے پاس چھ کی تعداد تک جوہری ہتھیار ہو سکتے ہیں۔

البرادعی کا خیال ہے کہ پیانگ یانگ کے پاس اتنا پلوٹونیم ہے جس سے پانچ، چھ جوہری ہتھیار بنائے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ شمالی کوریا کو اس بنیادی ڈھانچے کی سہولت بھی حاصل ہے جہاں اس پلوٹونیم کو ہتھیاروں کی شکل دی جا سکتی ہے۔

اس سال فروری کے مہینے میں شمالی کوریا نے اعلان کیا تھا کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں لیکن اقوامِ متحدہ کے انسپکٹر اس دعوے کی تصدیق اس بنا پر نہ کر سکے کہ شمالی کوریا نے انہیں دو ہزار دو کے آخر میں ملک سے نکال دیا تھا۔

جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی ایک ترجمان میلیسا فلیمنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ادارے کے پاس کوئی ایسا طریقہ بہرحال نہیں ہے جس سے یقینی طور پر یہ کہا جا سکے کہ شمالی کوریا کے پاس چھ جوہری بم ہیں۔

تاہم ترجمان کے مطابق اگر شمالی کوریا کے پاس چھ بم ہوئے تو یہ حیران کن بات نہیں ہوگی۔

گزشتہ تقریباً ایک برس سے شمالی کوریا اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے چھ ملکی مذاکرات سے گریز کر رہا ہے۔

حالیہ اطلاعات کے بعد کہ شمالی کوریا جوہری بم کا تجربہ کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے، جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ محمد البرادعی نے خبردار کیا ہے کہ اگر شمالی کوریا نے یہ تجربہ کیا تو اس کے سیاسی اور ماحولیاتی نتائج تباہ کن ہوں گے۔

انہوں نے پیانگ یانگ پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی طرف واپس آئے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم بروکس کا کہنا ہے کہ کہ امریکی جاسوس سیٹیلائٹس کی تازہ ترین تصاویر سے بظاہر دکھائی ہوتا ہے کہ شمالی کوریا میں گِلجو کے مقام پر جوہری سرگرمی جاری ہے۔

تصاویر مبینہ طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ مذکورہ علاقے میں کھدائی ہو رہی ہے اور تعمیر کا کام بھی جاری ہے اور ایک امریکی دفاعی اہلکار کے مطابق ان تصاویر سے اس گمان کو تقویت ملتی ہے کہ شمالی کوریا زیرِ زمین جوہری بم کا تجربہ کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔

تاہم اہلکار نے کہا ہے کہ ابھی یہ حتمی نہیں ہے کہ شمالی کوریا جلد ہی ایسا کوئی تجربہ کرنے والا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد