کوریا جوہری تجربے سے باز رہے: البردئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی جوہری ادارے کے سربراہ محمد البرادئی نے عالمی رہنماوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شمالی کوریا کے حکمرانوں کو جوہری تجربہ کرنے سے روکیں۔ اس سے پہلے نیو یارک ٹائمز میں امریکی حکام کے حوالے سے یہ روپورٹ شائع ہوئی تھی کہ کچھ تصویروں سے پتہ چلا ہے کہ شمالی کوریہ جوہری تجربہ کرنے کی بڑی تیاریاں کررہا ہے۔ نیو یارک سے بی بی سی کی نامہ نگار سوزانہ پرائس کے مطابق مسٹر البرادئی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ شمالی کوریا پر دباو ڈال کر اسے اس اقدام سے روکیں جس کے نہ صرف ایشیا اور پوری دنیا پر شدید اثرات مرتب ہونگے بلکہ پورا ماحول درہم برہم ہوجائیگا۔ نیو یارک ٹائمز میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کو حال ہی میں کچھ تصویریں موصول ہوئی ہیں جن سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ شمالی کوریا جوہری تجربے کی خاصی تیاریوں میں مصروف ہے۔ تاہم حکام کہتے ہیں کہ یہ کوریا کی طرف سے ایک دکھاوا بھی ہوسکتا ہے جس کا مقصد امریکہ سے اس کو روکنے کے بدلے کچھ مراعات حاصل کرنا ہو۔ آجکل اس بات پر خاصی بحث جاری ہے کہ کیا کوریا نے جوہری ایندھن کو ہتھیاروں میں تبدیل کیا ہے یا نہیں۔ دو سال پہلے کوریا پہلا ملک بن گیا تھا جو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاو سے متعلق ماہدے سے دستبردارہواتھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||