’امداد نہیں تو جوہری تجربے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکام نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے دھمکی دی ہے کہ اگر امداد سے متعلق ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ جوہری تجربے کر سکتے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے اپنا نام بتائے بغیر کہا کہ پیانگ یانگ اس سے پہلے بھی اسی طرح کی دھمکیاں دے چکا ہے لیکن اس کے باوجود مذاکرات کامیاب ہیں۔ یہ دھمکی مبینہ طور پر چین میں ہونے والے چھ ملکی مذاکرات کے موقع پر ہونے والی ایک میٹنگ میں دی گئی ہے۔ ان مذاکرات میں امریکہ، شمالی اور جنوبی کوریا، چین، روس اور جاپان حصہ لے رہے ہیں۔ شمالی کوریا کے جوہری تجربے سے علاقے میں اضطراب پھیل سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے ہمسایہ ممالک بھی جوہری اسلحہ حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ پیانگ یانگ کی طرف سے یہ دھمکی امریکی مصالحت کار جیمز کیلی اور ان کے ہم عصر شمالی کوریا کے کم کائی گان کے درمیان ایک میٹنگ میں دی گئی۔ نامہ نگاروں کے مطابق ہو سکتا ہے کہ شمالی کوریا کے وفد نے یہ مسئلہ پیانگ یانگ کے سخت گیر موقف رکھنے والوں کے دباؤ میں آ کر اٹھایا ہو۔ اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا نے مطالبہ کیا ہے کہ اسے ’یانگ بیان‘ کے جوہری پلانٹ کو بند کرنے کے عوض وسیع پیمانے پر بجلی کی امداد درکار ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||