| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے جوہری ہتھیار نظر انداز
سعودی عرب، مصر اور شام نے اقوامِ متحدہ کے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے جوہری پروگرام پر تنقید کرنے سے گریز کررہا ہے۔ ان ممالک کا موقف ہے کہ اسرائیل کے پاس مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔ عرب حکومتوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک طرف تو اسرائیل کے جوہری پروگرام کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام ترک کر دیں۔ آئی اے ای اے نے ایران کو اکتوبر تک کا وقت دیا ہے جس میں اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کسی خفیہ جوہری پروگرام پر کام نہیں کر رہا۔ شمالی کوریا کی بھی اس وقت تک یہی صورتحال رہی جب تک وہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق معاہدے سے دستبردار نہیں ہوگیا۔ اسرائیل نے ایسے کسی معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں۔ اگرچہ اسرائیل نے کبھی ایسے ہتھیار رکھنے کا دعویٰ تو نہیں کیا ہے تاہم عام خیال یہی ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا کہ ان کے لئے یہ امر باعثِ حیرت ہے کہ آئی اے ای اے کئی ممالک پر دباؤ بڑھا رہا ہے اور ان کی جوہری سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہے مگر یہ ادارہ اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق معاہدے پر دستخط نہ کرنے کا کوئی نوٹس نہیں لے رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پورے خطے کے استحکام اور سلامتی کے لئے بڑا خطرہ ہے۔ مصری وزیرِ خارجہ احمد ماہر نے کہا کہ اسرائیل کا رویہ ناقابلِ قبول ہے۔ جبکہ شام کے وزیرِ خارجہ کا موقف تھا کہ جوہری ہتھیاروں سے لاحق خطرات کا بہت چرچہ کیا گیا ہے اور اسی نام پر کئی جنگیں بھی مسلط کی جاچکی ہیں لیکن یہ چرچہ محض مسلمان ممالک تک محدود ہے ،اسرائیل کو صاف طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||