BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 October, 2003, 11:55 GMT 15:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری صلاحیت حاصل کرلی: کوریا
شمالی کوریا کی ممکنہ جوہری تنصیبات کا ایک خلائی عکس
شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس کے جوہری معاملات پر سفارتکاری ناکام ہوگئی ہے۔

شمالی کوریا نے کہا ہے کہ اس نے جوہری ایندھن کی آٹھ ہزار سلاخوں کو ازسرنوتیار کرنے کا وہ عمل مکمل کرلیا ہے جو چھ جوہری بم بنانے کے لئے کافی ہے۔

شمالی کوریا کے نائب وزیر خارجہ چوئے سوہون نے یہ انکشاف چین کے ایک خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے نہ صرف جوہری دفاعی صلاحیت حاصل کرلی ہے بلکہ اسے مضبوط تر کرتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ امریکہ اسے جوہری حملے کا نشانہ بنائے گا۔

یہ دعویٰ، جس کی تصدیق اب تک آزاد ذرائع سے نہیں ہوسکی ہے، بظاہر شمالی کوریا کی جوہری خواہشات اور امنگوں پر امریکہ اور اس کے حلیف ممالک سے سے پیدا ہوجانے والے بگاڑ کے تناظر میں شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ پر دباؤ بڑھانے کی ایک اور کوشش بھی دکھائی دیتی ہے۔

جوہری ایندھن کی یہ سلاخیں شمالی کوریا کی ان جوہری تنصیبات پر محفوظ رکھی گئیں جنہیں انیس سو چورانوے میں امریکہ سے ایک معاہدے کے بعد بند کردیا گیا تھا تاہم ان تنصیبات پر کام کا آغاز حال ہی میں ایک بار پھر شروع کردیا گیا ہے۔

نائب وزیرخارجہ چوئے سوہون کا یہ انکشاف شمالی کوریا کی جانب سے پہلی بار عوامی سطح پر اتنی زیادہ وضاحت کے طور پردیکھا جارہا ہے۔

اس سے قبل رواں سال کے آغاز پر شمالی کوریا نے اشارے دیئے تھے کہ اس نے جوہری ایندھن کی سلاخوں کو ازسرنوتیار کرنے کا عمل شروع کردیا ہے تاہم اس عندیے کے بارے میں امریکہ اور جنوبی کوریا کے خفیہ اداروں کا خیال تھا کہ یہ خالی خولی دھمکی یا محض گیدڑ بھبکی ہے۔

نائب وزیرخارجہ چوئے سوہون کے اس انکشاف کو شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے اس بیان میں بھی دہرایا گیا ہے جو ملک کے سرکاری خبر رساں ادارے کی وساطت سے بھی جاری کیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ جوہری ایندھن کی سلاخوں کو ازسرنو تیار کرنے کے عمل کی تکمیل ملک کی جوہری تنصیبات پر ’پرامن مقاصد‘ کے لئے ایک بار پھر شروع ہونے والے کام کے حصہ کے طور پر ہی کی گئی تھی مگر امریکہ سے بگڑ جانے والے تعلقات کے پیش نظر ’مقاصد تبدیل‘ کردیئے گئے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے ’شمالی کوریا نے ان جوہری ایندھن کی سلاخوں کو ازسرنوتیار کرنے کے عمل کی تکمیل کا رخ ملک کی جوہری دفاعی صلاحیت کو بڑھانے کی سمت موڑ دیا۔‘

بیان میں یہ عندیہ بھی دیا گیا ہے کہ اگر ضرورت محسوس کی گئی تو جوہری ایندھن کی مزید سلاخوں کو ازسرنوتیار کرنے کا عمل ایک بار پھر شروع کردیا جائے گا۔

تاہم نائب وزیرخارجہ چوئے سوہون نے چینی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ شمالی کوریا کا کوئی ارادہ نہیں کہ کسی بھی اور ملک کو جوہری تکنیکی مہارت فراہم کی جائے۔

اطلاعات کے مطابق نائب وزیرخارجہ چوئے سوہون نے چینی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ان کے ملک کا یورینیئم کو افزودہ کرنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں۔ یورینیئم بھی جوہری ہتھیار سازی کا ایک ضروری جز ہوتا ہے اور گزشتہ برس امریکہ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا نے تسلیم کیا ہے کہ وہ خفیہ طور پر یورینیئم افزودہ کرتا رہا ہے۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ جوہری دفاعی صلاحیت اس کی ضرورت تھی کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ وہ امریکہ کی اگلی فوجی کارروائی کا نشانہ بن سکتا ہے۔ لیکن امریکہ اب تک شمالی کوریا کی جوہری خواہشات یا امنگوں کو لگام دینے کے لئے اس پر علاقائی دباؤ ڈالنے کو ہی اہمیت دیتا رہا ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے اس مسئلے پر مزید مذاکرات کے کسی امکان کے بارے میں منفی تبصرہ کے باوجود بدھ کو امریکہ اور جنوبی کوریا کا کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ شمالی کوریا درست انداز میں مزید مذاکرات جاری رکھے گا۔

شمالی کوریا کے معاملے پر کثیرالفریقی مذاکرات کا آخری دور گزشتہ اگست میں چینی دارالحکومت بیجنگ میں ہوا تھا۔

تاہم یہ مذاکرات جن میں شمالی و جنوبی کوریا، امریکہ، چین، جاپان اور روس شامل تھے بغیر کسی نتیجے کے ہی ختم ہوگئے تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد