مذاکرات کامیاب رہے: امریکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے متعلق چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات کو ’انتہائی کامیاب‘ قرار دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ یہ مذاکرات ان کی توقع سے بڑھ کر ہیں۔ تاہم چین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات امریکہ اور شمالی کوریا میں شدید اختلافات کی وجہ سے بغیر کسی مفاہت پر پہنچے ختم ہوگئے ہیں۔ چھ ملکوں پر مشتمل یہ مذاکرات چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہو رہے تھے اور ان میں سنیچر تک توسیع کر دی گئی تھی جس کے بعد توقع تھی کہ دوپہر تک کوئی مشترکہ اعلامیہ سامنے آ جائے گا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا آخری لمحات میں اعلامیہ کے متن پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہا تھا۔ بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار چارلس سکینلون کا کہنا ہے کہ چین کی کوشش ہے کہ مذاکرات کا کوئی ٹھوس نتیجہ نکلے۔ چین چھ ماہ سے ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ بیان کے مسودہ میں اپریل سے پہلے مذاکرات کے ایک اور دور کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان مذاکرات میں شمالی کوریا، جنوبی کوریا، امریکہ، چین، روس اور جاپان حصہ لے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||