’جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوریا نے اپنی تمام جوہری سرگرمیاں ترک کرنے اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں دوبارہ شمولیت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ پیر کو جاری ہونے والے بیان میں شمالی کوریا نے’ جلد از جلد تمام ایٹمی ہتھیار ختم کرنے، حالیہ جوہری پروگرام سے دست بردار ہونے اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں دوبارہ شمولیت پر رضامندی ظاہر کی ہے‘۔ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں شمالی کوریا کی دوبارہ شمولیت سے اقوامِ متحدہ کے ماہرین کو شمالی کوریا کی ایٹمی تنصیبات کے معائنے کا موقع ملے گا۔ شمالی کوریا کے حکام کی جانب سے یہ اعلان بیجنگ میں جاری چھ ملکی مذاکرات کے چوتھے دور کے اختتام پر کیا گیا۔ مذاکرات میں شریک تمام ممالک کے نمائندوں نے اس اعلامیے پر دستخط کیے اور نومبر میں دوبارہ ملاقات کا اعلان کیا۔ یہ معاہدہ اس وقت امید کی کرن کے طور پر سامنے آیا ہے جب یہ خدشات سامنے آنا شروع ہو گئے تھے کہ چھ ملکی مذاکرات ناکام رہیں گے۔ اس موقع پر چین کے نائب وزیرِ خارجہ وو داوی کا کہنا تھا کہ’ یہ دو برس قبل شروع ہونے والے چھ ملکی مذاکرات کا اہم ترین نتیجہ ہے‘۔
شمالی کوریا کے اعلان کے جواب میں امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا پر روایتی یا جوہری ہتھیاروں سے حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور وہ اسے دیگر ممالک کے ہمراہ معاشی امداد اور ایندھن بھی فراہم کرے گا۔ سیول سے بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ معاہدہ نہایت اہم قدم ہے لیکن اس پر عملدرآمد کے دوران مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایک اہم نکتہ جس کا حل ابھی باقی ہے، شمالی کوریا کی جانب سے بجلی پیدا کرنے کے لیے ہلکے پانی کے جوہری ری ایکٹر کا مطالبہ ہے۔ امریکہ نے اس مطالبے کو فی الحال ناقابلِ عمل قرار دیا ہے تاہم پیر کو ہونے والے معاہدے میں امریکہ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اس معاملے پر مستقبل میں بات ہو سکتی ہے۔ اس طرح شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کی تصدیق کا معاملہ بھی ابھی حل طلب ہے۔ بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ حتمی معاہدے کی تشکیل میں ایک اہم رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||