امریکہ و کوریا مذاکرات ناکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے بتایا ہے کہ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر بات چیت کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی ختم ہوگئی ہے۔ فریقین اپنے اختلافات کو ختم کرکے ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال پر ایک دوسرے کو آمادہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ یہ ملاقات ان دونوں ملکوں کے درمیان جاری بیجنگ میں چھ ملکی بات چیت سے ہٹ کر ہوئی ہے۔ اس ملاقات کے بعد ایک اچھی علامت محض مشترکہ اصولوں کے ایک اعلامیہ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ چھ ملکی بات چیت میں شمالی اور جنوبی کوریا کےعلاوہ امریکہ، جاپان اور روس کے وفود شامل ہیں۔ ان ممالک کی کوشش ہے کہ مذا کراتی میز پر ہی کسی نکتے پر اتفاق کر لیاجائے۔ امریکہ نےشمالی کوریا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایٹمی طاقت بننے کے ارادوں سے باز آجائے۔ جمعرات کو ایک بیان میں شمالی کوریا کے وفد کے سربراہ کم کیگوان نے اس بات پر اصرار کیا کہ ان کے ملک کو بھی پرامن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ ’ہم جنگ میں مغلوب قوم نہیں تھے اور نہ ہی ہم نے کوئی جرم کیا ہے تو ہم کیوں اپنی ایٹمی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتے؟‘ امریکہ شمالی کوریا کی اس قسم کی تمام سرگرمیوں پر پابندی لگانا چاہتاہے۔ اس بات چیت میں شامل تمام وفود کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا چاہتے ہیں مگر اس مسئلے میں کوئی پیش رفت نہ ہونے پر ان میں مایوسی پیدا ہو رہی ہے۔ شمالی کوریا کی ایٹمی توانائی کا معاملہ سب سے پہلے دوہزار دو میں اس وقت سامنے آیاتھا جب امریکہ نے شمالی کوریا پر یورنیم کی افزردگی اور ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام لگایاتھا۔ شمالی کوریا اس وقت سےاب تک ان تمام امریکی الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ اس سلسلے میں بات چیت کے تین دور کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوچکے ہیں اور یہ چوتھا دور جو تین ادوار کی نسبت کافی لمبے عرصے تک جاری رہا ہے۔ اس بارے میں تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس بات چیت میں شامل تمام ممالک کوئی مستقل حل نکالنے پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور کسی حل کے ساتھ ہی مذاکرات کی میز سے اٹھنا چاہتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||