کھودا پہاڑ اور نکلا۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوریا کہ وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والا زور دار دھماکہ دراصل پانی سے بجلی پیدا کرنے والے پراجیکٹ کے لیے ایک پہاڑ کو بم سے اڑانے کی وجہ سے ہوا تھا اور یہ خود کیا گیا تھا۔ اس سے قبل یہ قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں کہ کہیں یہ کسی جوہری دھماکے کا حصہ تو نہیں۔ لیکن امریکہ اور جنوبی کوریا نے ان قیاس آرائیوں کو نظر انداز کیا تھا۔ یانگ گینگ میں گزشتہ جمعرات کو یہ دھماکہ سنا گیا تھا۔ اس روز شمالی کوریا اپنا قومی دن منا رہا تھا۔ سیول میں حکام کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد ایک خاص طرح کے بادل دیکھے گئے۔ شمالی کوریا نے پہلے اس کے متعلق کچھ بھی نہیں کہا اور خاموشی اختیار کیے رکھی۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے دھماکے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خیال میں یہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے منسلک نہیں ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ یہ جوہری دھماکہ تھا لیکن ’اصل میں یہ کیا تھا ہم اس کے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے‘۔ جنوبی کوریا کے صدر کے دفتر سے ایک ترجمان نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا تھا کہ حکومت کی معلومات کے مطابق شمالی کوریا نے کوئی جوہری دھماکہ نہیں کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||