جوہری مذاکرات ’ناکام‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوریا کے جوہری منصوبے سے متعلق بینجنگ میں موجود مصالحت کاروں کے مذاکرات کا چوتھا اور آخری دن بھی بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گیا ہے۔ امریکی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ امریکہ، چین، روس، جاپان، شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے مابین ہونے والے مذاکرات کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں۔ تاہم تمام فریقین نے اس بات سے اصولی اتفاق کیا ہے کہ وہ ستمبر میں دوبارہ ملاقات کریں گے۔ حکام نے جمعہ کو کہا تھا کہ پیانگ یانگ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی طرف سے کیے گئے امداد کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ جوہری تجربہ کر سکتا ہے۔ امریکی حکام نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں ٹھوس نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ’یہ عمل آگے بڑھ رہا ہے لیکن ہم کسی کامیابی کی جانب اشارہ نہیں کر سکتے۔‘ شمالی کوریا کی جانب سے جورہی تجربے کے سبب علاقے میں بے چینی پیدا ہو گی اور ہمسایہ ممالک پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اسلحے کی دوڑ میں شامل ہو جائیں۔ امریکی حکام نے کہ جن کے نام واضح نہیں کیے گئے ہیں، کہا ہے کہ پیانگ یانگ کی طرف سے پہلے بھی ایسی دھمکیاں سنے میں آتی رہی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذاکرات کا کچھ فائدہ ضرور ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||