امریکی فوجوں میں کمی کی تجویز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے تجویز کیا ہے کہ وہ سن دو ہزار چھ تک جنوبی کوریا میں موجود اپنے سینتیس ہزار فوجیوں میں سے ساڑھے بارہ ہزار فوجی واپس بلا لے گا۔ امریکی حکام نے جنوبی کوریا میں اپنے ہم منصبوں کو اپنی تجویز سے آگاہ کر دیا ہے۔ تجویز کے تحت جنوبی کوریا سے واپس جانے والے فوجیوں میں وہ چھتیس سو فوجی بھی شامل ہیں جن کو عراق میں تعینات کیا جانا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق جنوبی کوریا میں فوجوں کی کمی امریکہ کی عالمی سطح پر اپنے فوجیوں کی تعیناتی کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کا حصہ ہے۔ اس نئی پالیسی کا مقصد پرانی پالیسی کو لچکدار بنانا تھا۔ امریکہ نے کہا کہ فوجوں کی کمی سے جنوبی کوریا کی دفاعی صلاحیتوں میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ دور مار کرنے والے ہتھیار اور بہتر ٹیکنالوجی فوجوں کی کمی کا ازالہ کر دے گی۔ جنوبی کوریا شمالی کوریا کے ساتھ اُس کے جوہری پروگرام کے بارے میں تنازعہ کے حل سے پہلے امریکی فوجوں کی کمی نہیں چاہتا اور بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس کی خواہش ہے کہ امریکی فوجوں میں فوری کمی کی بجائے انہیں دس سال میں واپس بلایا جائے۔ جنوبی کوریا کےحکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکی تجویز کا جواب دینے سے پہلے اس کا بغور جائزہ لیں گے۔ جنوبی کوریا میں تعینات امریکی فوجیوں کی اکثریت ملک کے دارالحکومت سیئول کے شمال میں تعینات ہے اور شمالی کوریا کے توپخانے کی زد میں ہے۔ جنوبی کوریا میں رہ جانے والے امریکی فوجیوں کی از سر نو تعیناتی کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فوجیوں کو سیئول کے جنوب میں تعینات کرنا عسکری حکمت عملی کے نقطۂ نظر سے اہم ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||