شمالی کوریا اور امریکہ کا رابطہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے وزیر خارجہ کولن پاول اور شمالی کوریا کے وزیر خارجہ پیک نیم سن کے درمیان جکارتہ میں بیس منٹ کی ملاقات ہوئی ہے۔ دونوں رہنما علاقائی نوعیت کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے انڈونیشیا میں موجود تھے۔ دو سال قبل شمالی کوریا کے جوہری عزائم کے بارے میں شروع ہونے والے تنازعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ سب سے اعلیٰ سطحی رابطہ ہے۔ کولن پاول کے ترجمان نے جمعہ کو کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مذاکرات کے پچھلے دور میں پیش کی جانے والی تجاویز پر بات کی۔ اُن مذاکرات میں امریکہ اور شمالی کوریا کے علاوہ روس، جاپان، چین اور جنوبی کوریا بھی شریک ہوئے تھے۔ ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ کولن پاول نے امریکی انتظامیہ کی طرف سے شمالی کوریا کے جوہری منصوبوں کے خاتمے کے بارے میں پیش کی گئی تجاویز کا ذکر کیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق شمالی کوریا کی طرف سے اس ملاقات کے بارے میں جاری ہونے والا بیان محتاط معلوم ہوتا ہے۔ بیان میں شمالی کوریا کے وزیر خارجہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ’اگر امریکہ شمالی کوریا سے تعلقات میں بہتری چاہتا ہے تو وہ بھی امریکہ کو ازلی دشمن کی حیثیت سے نہیں دیکھے گا۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اگر شمالی کوریا کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے پر توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیل کی امداد دی جا سکتی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق حقیقی پیش رفت کے امکانات بہت کم ہیں اور فریقین اپنے اختلافات کی طرف اشارہ بھی کر چکے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ممکن ہے کہ شمالی کوریا اس اُمید پر امریکہ میں انتخابات کے نتائج کا انتظار کر رہا ہو کہ نئی انتظامیہ کے اقتدار میں آنے سے مذاکرات میں نئی تیزی آ جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||