چین پر ایٹمی پھیلاؤ کا الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ میں چین پر تیل کے بدلے میں ایران کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ یو۔ایس چائنا اکنامِک اینڈ سکیورٹی ریویو کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین نے شمالی کوریا کو بھی ایٹمی ہتھیار بنانے میں مدد کی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ چینی حکومت نے اپنے کمیونسٹ اتحادی شمالی کوریا کو بحری، فضائی اور ریل راستوں کے ذریعے میزائل اور دوسرے ہتھیار لےجانے کی سہولت فراہم کی۔ چین کی وزارت خارجہ نے اس رپورٹ کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا ہے کہ ”یہ حقیقت کے برعکس ہے۔” وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا: ”آپ نے جس رپورٹ کا ذکر کیا وہ میں نے نہیں دیکھی ہے اور مجھے رپورٹ کے مقاصد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس رپورٹ اور جن حالات کا ذکر آپ نے ابھی کیا ہے وہ حقیقت کے برعکس ہیں۔” لیکن امریکی کانگریس کی رپورٹ کے مطابق چین کے یہ اقدامات امریکہ کو مشکل میں ڈال رہے ہیں۔ ”(ایٹمی ہتھیاروں) کے پھیلاؤ میں اپنے اقدامات کو مناسب طور پر نہ روکنے کی چین کی مسلسل ناکامی سے امریکہ کی قومی سلامتی کو اہم خدشہ ہے۔” رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ: ”تشویش کے باعث ممالک میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق منصوبوں کو ملنے والی چینی مدد (جاری ہے)، اس کے باوجود کہ یہ کارروائیاں ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔” منگل کو چینی حکومت نے اعلان کیا کہ شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں چین، جنوبی کوریا، شمالی کوریا، امریکہ، جاپان اور روس کے درمیان مذاکرات تئیس سے چھبیس جون کے درمیان بیجنگ میں ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||