شمالی کوریا پر امریکی قانون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بش نے ایک نۓ قانون پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت شمالی کوریا میں انسانی حقوق کے گروپوں اور خفیہ ریاست کو چھوڑ کرجانے والے مہاجرین کو امریکی امداد دی جاسکے گی۔ ان مقاصد کے لیے سالانہ دو کروڑ چالیس لاکھ ڈالر رکھے گۓ ہیں اور اب شمالی کوریا کے باشندے امریکہ میں سیاسی پناہ لینے کے اہل ہوں گے۔ شمالی کوریا نے اس قانون پر تبصرہ کرتے ہوۓ کہا ہے کہ اس کا مقصد حکومت کو گرانا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شمالی کوریا انسانی حقوق ایکٹ مجریہ سنہ دو ہزار چار کا مقصد یہ ہے کہ جمہوری عوامی ریپبلک کوریا میں انسانی حقوق اور آزادی کو فروغ دیا جاۓ۔ اس قانون سے شمالی کوریا کے غیرمنافع بحش گروپوں کو انسانی حقوق ، جمہوریت ، قانون کی حکمرانی اور سرمایہ دارانہ ترقی کو فروغ دینے کے لیے مالی امداد دی جاسکے گی۔ اس قانون کے ذریعے ایک خصوصی مندوب کا تقرر کیا جاۓ گا جس کا کام یہ ہوگا کہ وہ شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی نگرانی کرے۔ شمالی کوریا کے دارلحکومت سئیول میں بی بی سی کے نمائندے چالس سکانلن ان گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ کیسے اور کب نئی مالی امداد تقسیم کی جاۓ گی اور یہ کہ شمالی کوریا کے باشندوں سے سیاسی پناہ دیتے وقت خصوصی سلوک نہیں کیا جاۓ گا۔ ایک اندازے کے مطابق شمالی کوریا کے کم سے کم دو لاکھ باشندے سرحد پار کرکے چین میں جاچکے ہیں لیکن اگر چینی حکام نے انہیں پکڑ لیا تو انہیں واپس شمالی کوریا بھیجا جاسکتا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا اور چین دونوں ہی اس نۓ قانون سے خوش نہیں کیونکہ دونوں نہیں چاہتے کہ ایک بڑی تعداد میں مہاجرین جانا شروع ہوجائیں۔ کانگریس نے واضح کردیا ہے کہ یہ قانون منظور کرکے وہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر کیے جانے والے مذاکرات کو انسانی حقوق سے منسلک کرنا چاہتی ہے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ کولن پاول اس ہفتہ کے آخر میں مشرق بعید کے دورہ پر آنے والے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ شمالی کوریا اور دوسری اقوام سے پیانگ یانگ کی جوہری ہتھیاروں کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بات چیت کی ابتدا کی جاسکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||