امریکی تجویز مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوریا نے امریکہ کی وہ تجویز رد کر دی ہے جس میں اسے مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بھی لیبیا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنا ایٹمی پروگرام ترک کردے۔ امریکہ نے شمالی کوریا سے کہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام ترک کر کے نہ صرف اپنی بین الاقوامی سفارتی تنہائی ختم کر سکتا ہے بلکہ معاشی امداد بھی حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن کوریا کے وزارت خارجہ کے ایک افسر نے امریکی مشورے کو ’دن کا خواب‘ اور جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر مزید بات کرنا فضول ہے۔ پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ وہ اپنا اٹمی پروگرام صرف اس صورت میں منجمد کرے گا جب امریکہ اسے توانائی کے شعبے میں امداد دے، تحفظ کی یقین دہانی کرائے، اس پر سے اقتصادی پابندیاں ختم کرے اور اس پر سے دہشت گردی پھیلانے کے الزامات واپس لے۔ امریکہ نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کو پچاس ہزار ٹن گندم کا عطیہ فراہم کرے گا۔ تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ اس مدد کا اس کی نئی تجویز سے کوئی تعلق نہیں۔ امریکی ترجمان رچرڈ باؤچر نے کہا ہے کہ گندم اس لیے بھجوائی جا رہی ہے تاکہ وہاں کے لوگوں کو اس کچھ فائدہ ہو سکے اور اس کا مطلب ایٹمی توانائی کے حوالے سے بات چیت پر اثر انداز ہونا ہرگز نہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ گندم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے ذریعے تقسیم کی جائے گی۔ شمالی کوریا میں گزشتہ کچھ سالوں میں شاید لاکھوں لوگ بھوک اور قحط سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ بے شک کوریا کا ردعمل بدشگونی لگتا ہے لیکن کوریا کے لیے اس طرح کے بیان حیران کن نہیں اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام پر مزید بات چیت نہیں کرے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||