وزارت خارجہ کا تبصرے سے انکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق عبدالقدیر خان نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ پانچ سال پہلے انہوں نے شمالی کوریا کے تین ایٹم بم دیکھے تھے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذکورہ خبر انہوں نے دیکھی ہے جس میں اخبار نے اپنے ذرائع کا ذکر نہیں کیا ہے اور یہ کہ چونکہ اس وقت جوہری پھیلاؤ کے معاملے میں تحقیقات جاری ہیں اس لئے وہ کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھتے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ ممکن ہے کہ پاکستانی حکام نے جو اطلاعات بین الاقوامی برادری کے حکام کو جو معلومات فراہم کی ہیں وہاں سے یہ معلومات مذکورہ اخبار تک پہنچی ہوں تو مسعود خان نے کہا کہ وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور وہ جوہری پھیلاؤ کو روکنے کے لئے بین الاقوامی برادری اور اہم ممالک سے تعاون کر رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے خبر کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے دورے میں انھیں ایک زیر زمین خفیہ جگہ پر لے جایا گیا جہاں انہیں تین ’نیوکلیئر ڈیوائس‘ دکھائے گئے۔ اخبار میں شائع ہونے والی خبر میں کہاگیا ہے کہ گو امریکی حکام عبدالقدیر خان کی اصلی اور نقل بم میں تمیز کرنے کی صلاحیت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہ سکتے لیکن ان سے حاصل ہونے والی معلومات کچھ کچھ امریکی خفیہ اداروں کی معلومات سے مطابقت رکھتی ہے۔ اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا کہ امریکی نائب صدر ڈک چینی اپنے چین کے دورے کے دوران چینی حکام سے عبدالقدیر خان سے حاصل ہونے والی معلومات کا حوالہ دیں گے۔ ڈاکٹر خان نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ انہوں نے ایٹمی شعبے میں شمالی کوریا سے سن انیس سو اٹھاسی میں تعلقات استوار کئے تھے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ جب انیس سو نوے میں شمالی کوریا کے پلوٹونیم سے چلنے والے پروگرام پر امریکہ کی طرف سے پابندی عائد کر دی گئی تو انہوں نے شمالی کوریا کو یورینیم کی ترسیل شروع کر دی تھی۔ اخبار کے مطابق ڈاکٹر خان نے پیانگ یانگ کو سینٹری فیوگز کے خاکے اور کچھ سینٹری فیوگز بھی فراہم کئے جو کہ یورنیم افزودہ کرنے میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے شمالی کوریا کو ایک طویل فہرست بھی بھیجی جس میں وہ چیزیں اور آلات شامل تھے جو پاکستان حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ڈاکٹر قدیر خان نے جس جوہری پلانٹ کا ذکر کیا ہے وہ یونگ بیون کا پلانٹ نہیں تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||