BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 April, 2004, 02:15 GMT 07:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ
News image
ٹرینوں تصادم کی یہ تصویر سیٹلائیٹ کے ذریعے لی گئی ہے
شمالی کوریا میں سفارتی ذرائع نے کہا ہے کہ جمعرات کے روز شمالی کوریا میں دو ٹرینوں کے تصادم میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کی تعداد ریڈ کراس کے اعداد و شمار سے بہت زیادہ ہے۔

ذرائع کے مطابق حادثہ ڈائنامائٹ سے بھری دو بوگیوں پر بجلی کا تار گرنے سے ہوا۔

اس سے قبل ریڈ کراس نے کہا تھا کہ اس حادثے میں چھپن افراد ہلاک اور بارہ سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔ دو ہزار سے زیادہ مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔

کل تک اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ اس تصادم میں ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہوگئے ہیں۔

جنوبی کوریا کے عبوری صدر گوہ کن نے متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ شمالی کوریا ٹرین کے شدید تصادم کی اطلاع کی تصدیق کی صورت میں امدادی کارروائیوں کے لیے تیار رہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی دونوں ٹرینیں مائع گیس اور پٹرول لے کر جا رہی تھیں۔ یہ تصادم چینی سرحد سے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ریونگ چونگ کے شہر میں ہوا ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری ٹیلی ویژن اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حادثے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد تین ہزار سے زیادہ ہے۔

ابتدائی طور پر واقعے کی زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں اور اس میں زندہ بچ جانے والوں اور شمالی کوریا کے دیگر ممالک سے مدد طلب کرنے کے بارے میں متنازع اطلاعات ہیں۔

تصادم
’جس ریلوے سٹیشن پر دھماکہ ہوا وہ ایسے تباہ ہوگیا جیسے اس پر بمباری کی گئی ہو‘

کہا جاتا ہے کہ حادثہ سے نو گھنٹے قبل کوریا کے رہنما کم یونگ ال بیجنگ کا دورہ مکمل کر کے واپس گھر جانے کی لیے اس سٹیشن سے گزرے تھے۔ وہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لئے چین گئے تھے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق جس ریلوے سٹیشن پر دھماکہ ہوا وہ ایسے تباہ ہوگیا جیسے اس پر بمباری کی گئی ہو۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول سے بی بی سی کے نامہ نگار کیون کم نے بتایا ہے کہ اس دھماکے کے بارے میں کئی طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں جن میں ایک قیاس آرائی یہ بھی ہے کہ یہ دھماکہ شمالی کوریا کے سربراہ کو قتل کرنے کی ایک کوشش تھی۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ تصادم میں ایک بڑا علاقہ تباہ حالی کا شکار ہوگیا ہے۔

ایک قیاس آرائی یہ ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کے چین کے دورے کے بعد مائع گیس بطور تحفہ شمالی کوریا بھیجی جا رہی تھی۔

خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کے حکام نے علاقے میں ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیا ہے اور اس حادثے کی خبر چھپانے کے لئے بین الاقوامی ٹیلی فون کالز کا سلسلہ منقطع کر دیا ہے۔

ریونگ چونگ کی آبادی تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد