بیجنگ: چھ قومی مذاکرات معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر جاری چھ ملکی بات چیت کسی سمجھوتے کے بغیر ختم ہوگئی ہے۔ اس بات چیت کا دوسرا دور اب اس ماہ کے اواخر میں ہوگا اور چین نے اعلان کیا ہے مذاکرات میں تین ہفتے کا وقفہ دیا جا رہا ہے۔ جب کے امریکی وفد کے سربراہ نے اسے تعطل قرار دیتے ہوئے اس کے ذمہ داری شمالی کوریا پر ڈالی ہے۔ اس باقاعدہ اجلاس کے علاوہ بھی شمالی کوریائی حکام اور امریکہ کے حکام کے کے درمیان شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر بات چیت ہوئی جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی تھی۔ چینی خبر رساں ادارے کے مطابق اس اجلاس میں فریقین اپنے اختلافات کو ختم کرکے ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال پر ایک دوسرے کو آمادہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ یہ ملاقات ان دونوں ملکوں کے درمیان جاری بیجنگ میں چھ ملکی بات چیت سے ہٹ کر ہوئی ہے۔ اس ملاقات کے بعد ایک اچھی علامت محض مشترکہ اصولوں کے ایک اعلامیہ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ بیجنگ کی چھ ملکی بات چیت میں شمالی اور جنوبی کوریا کےعلاوہ امریکہ، جاپان اور روس کے وفود شامل ہیں۔ امریکہ نےشمالی کوریا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایٹمی طاقت بننے کے ارادوں سے باز آجائے۔ شمالی کوریا کی ایٹمی توانائی کا معاملہ سب سے پہلے دوہزار دو میں اس وقت سامنے آیاتھا جب امریکہ نے شمالی کوریا پر یورنیم کی افزردگی اور ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام لگایاتھا۔ شمالی کوریا اس وقت سےاب تک ان تمام امریکی الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ اس سلسلے میں بات چیت کے تین دور کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوچکے ہیں اور یہ چوتھا دور جو تین ادوار کی نسبت کافی لمبے عرصے تک جاری رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||