BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 June, 2006, 06:27 GMT 11:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاپانی فوج کے انخلا کا فیصلہ
جاپانی فوجی
عراق میں تعیناتی کے دوران کوئی جاپانی فوج ہلاک یا زخمی نہیں ہوا
جاپانی وزیر اعظم جونیچیرو کوئزومی نے عراق سے جاپانی فوج کے انخلاء کا اعلان کیا ہے۔

ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جاپان کی فوج کی عراق میں موجودگی کو عراقی عوام اور حکومت نے بہت سراہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جاپان عراق کی تعمیر نو کے لیے ہر ممکن حد تک مدد اور تعاون جاری رکھا جائے گا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ جاپانی فوجیوں کو جاپان سے باہر تعینات کیا گیا تھا۔

عراق میں جاپانی فوج کی تعیناتی کے فیصلے کو جاپانی عوام میں زیادہ پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی تھی اور عوام کی ایک بڑی تعداد اس فیصلے کی مخالف تھی اور وہ اسے جاپان کے عدم جاریحت پر مبنی آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے تھے۔

 جاپانی فوج پر ذاتی حفاظت کے علاوہ طاقت کے استعمال پر پابندی ہے اسی وجہ سے یہ اپنے دفاع کے لیئے برطانوی اور آسٹریلیا کی فوجوں پر انحصار کرتے تھے۔

انیس سو سینتالیس میں امریکہ کی طرف سے وضع کردہ یہ آئین بین الاقوامی تنازعات میں طاقت کے استعمال نہ کرنے کے بنیادی اصول پر تشکیل دیا گیا تھا۔

عراق کے جنوبی شہر سماوا میں تعینات چھ سو جاپانی فوجی تعمیر نو اور طبی امداد مہیا کرنے کے کاموں میں مصروف رہے۔

جاپانی فوج کے انخلاء کے فیصلے کا فوری سبب غالباً آسٹریلیا اور برطانیہ کی طرف سے اس اعلان کے بعد کیا گیا ہے کہ جنوبی عراق کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں جلد ہی عراقیوں کے حوالے کر دی جائیں گی۔

جاپانی فوج پر ذاتی حفاظت کے علاوہ طاقت کے استعمال پر پابندی ہے اسی وجہ سے یہ اپنے دفاع کے لیئے برطانوی اور آسٹریلیا کی فوجوں پر انحصار کرتے تھے۔

حالیہ برسوں میں جاپان نے بین الاقوامی امور میں اپنے کردار کو زیادہ فعال بنانے کی کوشش کی ہے۔

دسمبر سن دوہزار چار میں سونامی طوفان کے بعد جاپان نے انڈونیشیا میں امداد کے لیے اپنے ایک ہزار فوجی بھیجے تھے۔

امریکی صدر بش نے جونیچیرو کوئزومی کے عراق میں جاپانی فوج کو تعینات کرنے کے فصیلے کی تعریف کی تھی جبکہ جاپان میں لوگوں نے اس فیصلے پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

عراق میں جاپان کا کوئی فوج ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ تاہم وزیر اعظم جونیچیرو کوئزومی کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب عراق میں مزاحمت کاروں نے جاپان سے تعلق رکھنے والے تین امدادی کارکنوں کو اغواء کر لیا تھا اور ان کی رہائی کے لیئےعراق سے جاپانی فوج کے انخلاء کی
شرط عائد کی تھی۔

اسی بارے میں
عراق: ایک جاپانی اغواء
27 October, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد