مردوں کے لیے ’عورت کی گود ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس کرسمس پر وہ جاپانی مرد جنہیں کسی بھی وجہ سے سہی، رونے کے لیے کندھے کی ضرورت تھی، ان کے لیے ایک خبر ہے۔ اور خبر یہ ہے کہ ان کو کندھے کی بجائے ’عورت کی گود‘ میسر ہوجائے گی۔ مگر رونے کے لیے نہیں بلکہ آرام کے لیے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لیپ پِلو یا گود کا تکیہ جس کی شکل گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوئی عورت کی طرح کی ہے، جاپان میں نوے ڈالر میں بک رہا ہے۔ ’مٹسوؤ تاکاہاشی جو ایک کاروباری شخص ہیں کہتے ہیں کہ ’مردوں کو اس گود کے تکیے سے بڑا سکون مل رہا ہے۔‘ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ گود کے تکیے نے تو مردوں کی ایک بنیادی ضرورت پوری کر دی ہے۔ ’وہ زمانہ جب مرد بچے ہوا کرتے تھے، وہ اپنے کانوں کی صفائی کے لیے اپنے سر اپنی ماؤں کی گود میں رکھتے تھے۔ لہذا یہ تکیہ بھی اسی گود سے مشابہ ہے۔‘ یہ گود جیسے تکیے نہ صرف مردوں کے آرام کی ضرورت پورا کر رہے ہیں بلکہ ان تکیوں کو از رہِ مذاق تحفے کے طور پر سرکاری پارٹیوں میں ایک دوسرے کو دیا جا رہا ہے۔ اس تکیے کو بنانے والی کمپنی کہتی ہے کہ اس نے تین ہزار کے قریب ’گودیں‘ تیار کی ہیں۔ یہ تکیہ انسان کے اوپر کے دھڑ اور اس کے ساتھ پھیلے ہوئے مضبوط انسانی بازو سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے جسے تنہا رہنے والی عورتوں کے لیے بنایا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||