یرغمال جاپانی کی ہلاکت کی تصدیق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک جاپانی شخص نے تصدیق کر دی ہے کہ عراقی شدت پسندوں کی ویب سائٹ پر شائع شدہ مردہ شخص کی تصویر اس کے بھائی کی ہے۔ ویب سائٹ شائع کرنے والی تنظیم انصار السنہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اکیہیکو سیتو نامی سکیورٹی گارڈ کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ چوالیس سالہ سیتو کو اس ماہ کے اوائل میں بغداد میں اس وقت لا پتہ ہو گئے تھے جب اُس قافلے کو گھات لگا کر حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے وہ محافظ تھے۔ شدت پسند گروہ نے ابتداً کہا تھا کہ حملے کی اس کارروائی میں چار غیرملکی کارکن ہلاک ہوئے تھے جبکہ سیتو بری طرح زخمی ہو گئے تھے۔ جاپان کی خبر رساں ایجنسی نے کیوڈو ہیرونوبو سیتو کے حوالے سے لکھا ہے ’میں نے تصاویر دیکھی ہیں، یہ میرے بڑے بھائی کی ہیں۔ میں نے اس بارے میں جاپانی پولیس اور وزارت خارجہ کو مطلع کر دیا ہے۔‘ عراق کی قومی سلامتی کے وزیر عبدالکریم الانیزی نے اس ہلاکت کی مذمت کی ہے۔ سیتو ایک برطانوی سکیورٹی کمپنی ’ہارٹ سکیورٹی‘ میں ملازم تھے۔ اس کمپنی کا مرکز قبرص میں واقع ہے۔ سیتو ماضی میں چھاتہ بردار اور فرانسیسی فوجی دستے کے رکن تھے۔ وہ جاپان کے تعلق رکھنے والے چھٹے فرد ہیں جنہیں عراق میں فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||