BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 March, 2006, 09:56 GMT 14:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاپان: فوجی اڈہ رہےگا یا نہیں
فوجی اڈہ
فوجی اڈے کے بارے میں لوگ ووٹوں کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کریں گے
جاپان کے شہر ایواکونی میں اتوار کو شہری امریکی میرین کے ایک مقامی فوجی اڈے کے قیام کی مدت میں توسیع کے منصوبے پر اپنی رائے کے اظہار کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔

امریکہ نے جاپان کی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹوکیو کے جنوب مغربی شہر ایواکونی میں واقع اپنا نیول ائیر ونگ یا 57 جہاز اور 1600 فوجیوں کو وہاں سے منتقل کررہا ہے۔

ووٹروں سے اس منصوبے پر رائے مانگی گئی ہے کہ آیا وہ امریکی فوجی اڈے کے قیام کی مدت میں توسیع کی حمایت کرتے ہیں یا اس کی مخالفت۔

اگر ووٹروں کا ٹرن آؤٹ پچاس فیصد سے کم رہا تو ووٹ کاعمل منسوخ کردیا جائے گا۔

جاپان میں امریکی فوج کی تنظیم نو کے حوالے سے ووٹ مقامی لوگوں کی مخالفت کے اظہار کا ایک نشان بن گئے ہیں۔

جاپان میں موجود امریکی فوج کی تنظیم نو اور اس کے نتیجے میں فوجیوں کی تعداد میں کمی ٹوکیو اور واشنگٹن کے درمیان اکتوبر میں ہونے والے معاہدے کے بعد کی جا رہی ہے۔

ایک اور شہر زما کے تقریبا دو ہزار شہریوں نے سنیچر کو ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین امریکی فوجیوں کی تعداد میں ممکنہ اضافے کے منصوبے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

ٹوکیو کے شمالی شہر میں اس وقت ایک ہزار ایک سو پچاس امریکی فوجی موجود ہیں جس میں تین سو فوجی دستے اور شامل کیے جائیں گے۔

زما شہر کے ایک افسر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ مظاہرے کو قانون سازوں کے علاوہ مقامی کمیونٹی تنظیموں کی حمایت بھی حاصل تھی۔

کمیونٹی منتظمین کا کہنا تھا کہ جاپانی شہروں میں واقع امریکی فوجی اڈوں کے قریب رہنے والوں کو ملک کے دفاع کے نام پر بڑے طویل عرصے سے دباؤ کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا’ ہم نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقامی شہریوں کی خواہش کا احترام کرے‘۔

میئرکتسوسوکی اہارا جو امریکی فوجی اڈے کے قیام میں توسیع کے منصوبے کے مسلسل مخالف رہے ہیں اب انہوں نے اس بارے میں عوامی رائے جاننے کے لیے
ریفرنڈم کی اپیل کی ہے۔

ان کا کہنا ہے’ کیونکہ قومی حکومت نے اس بارے میں کوئی قدم اٹھانے کا فیصلہ کرلیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے خیالات کے اظہار سے باز رہیں‘۔

مقامی لوگوں نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ فوجی اڈے سے شہر میں شور میں اضافہ ہوگا۔

انیس سو پچانوے میں ایک کیس کے منظر عام پر آنے کے بعد سے جاپان میں امریکی فوجیوں کا معاملہ حساس نوعیت اختیار کر گیا ہے۔ اس کیس میں تین امریکی فوجیوں نے اوکی ناوا میں سکول کی ایک طالبہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

اسی بارے میں
مہنگا ترین بیت الخلاء
28.07.2003 | صفحۂ اول
جاپان:ایک سال، 34,000 خودکشیاں
12 October, 2004 | صفحۂ اول
عراق: جاپانی یرغمالی ہلاک
31 October, 2004 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد