| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان کا خلائی پروگرام پھر ناکام
جاپان نے اپنے اس راکٹ کو دھماکے سے تباہ کر دیا ہے جس کے ذریعے شمالی کوریا کی نگرانی کے لئے فضا میں دو جاسوس سیارے بھیجے جانے تھے۔ جاپان میں خلائی پروگرام پر کام کرنے والے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ راکٹ کو فضا میں پرواز کے کچھ ہی دیر بعد تکنیکی خرابی کے باعث تباہ کرنا پڑا۔ تکنیکی خرابی کی نوعیت ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ اہلکاروں کے مطابق جاسوس سیاروں کو بچانا ناممکن ہو گیا تھا۔ اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق سیاروں کو راکٹ کے ذریعے ستمبر میں پرواز پر جانا تھا لیکن یہ پروگرام تکنیکی مسائل کی وجہ سے تین مرتبہ ملتوی کیا گیا۔ جاپانی خلائی پرواگرام کے ترجمان شوکا یماموتو نے بتایا ’جونہی راکٹ جاسوس سیاروں کو لے کر فضا میں بلند ہوا، ہمیں اس کو تباہ کرنے کا حکم بھی دینا پڑا کیونکہ ہم فوراً اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ اس مشن سے ہمارے مقاصد حاصل نہیں ہو سکیں گے۔‘ انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا لیکن اتنا ضرور کہا کہ ’مشن ناکام ہو گیا ہے۔‘ جاپان کے دو سیارے پہلے ہی شمالی کوریا پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے۔ نئے سیاروں کا مقصد خفیہ معلومات جمع کرنا تھا۔ ماضی میں جاپان کے خلائی پرواگرام کے ادارے پر انتہائی مہنگا ہونے اور ناکام ہونے کی وجہ سے تنقید بھی کی گئی ہے۔ جاپان کے وزیرِ اعظم نے حال ہی میں اس ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کا حکم دیا تھا۔ ٹوکیو میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ مشن کی ناکامی جاپان کے لئے باعثِ پشیمانی بھی ہے اور ایک دھچکا بھی کیونکہ کچھ ہی ہفتے قبل چین کا ایک باشندہ خلا میں گیا تھا حالانکہ چین ٹیکنالوجی کے لحاظ سے جاپان کی نسبت کم ترقی یافتہ ہے۔ توقع ہے کہ جاپان ان جاسوس سیاروں کو ایک مرتبہ پھر فضا میں بھیجنے کی کوشش کرے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||