جاپان:ایک سال، 34,000 خودکشیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان میں پولیس نے کہا ہے کہ اسے ٹوکیو کے مغرب میں ایک گاڑی سے سات نوجوان افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ پولیس کے ترجمان کے مطابق بظاہر ان سات افراد نے اجتماعی خود کشی کی ہے کیونکہ ایک شخص نے لاشوں کے بارے میں تفصیلی پیغام چھوڑا تھا۔ اس گاڑی ملنے کے کچھ ہی دیر بعد پولیس کو ٹوکیو کے جنوب میں دو خواتین کی لاشیں ملیں جن کے بارے میں بھی خیال ہے کہ انہوں نے اجتماعی خود کشی کی ہے۔ جاپان میں خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نیشنل پولیس ایجنسی کے مطابق سن دو ہزار تین میں جاپان میں ریکارڈ رکھے جانے کے بعد سب سے زیادہ خودکشیاں ہوئیں۔ ایجنسی کے مطابق گزشتہ سال چونتیس ہزار افراد نے اپنی زندگیوں کا خود خاتمہ کیا جو کہ سن دو ہزار دو کے مقابلے میں سات فیصد زیادہ ہے۔ ماہرین کے خیال میں خودکشیوں کی بڑی وجہ صحت کے مسائل اور مشکل اقتصادی حالات ہیں۔ ٹوکیو کے مغرب میں ملنے والی سات لاشوں میں سے تین عورتوں کی ہیں۔ ساتوں افراد کی عمر تیس سال سے کم ہے۔ پولیس کو گاڑی سے کوئلے کے چار چولہے ملے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ان لوگوں نے کاربن مونو آکسائڈ گیس سے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کیا۔ شہر کے جنوب سے ملنے والی دو عورتوں کی لاشوں کے پاس سے بھی کوئلے کے چولہے ملے۔ پولیس نے کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ خود کشی کرنے والے دونوں گروپوں کا آپس میں کوئی تعلق تھا؟ حالیہ مہینوں میں جاپان میں گاڑیوں میں اجتماعی خودکشی کے کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں کہا گیا یہ انٹرنیٹ پر ملاقات طے کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||