جاپان میں فوری انتخابات کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان کے وزیر اعظم جونیچیرو کوئے زومی نے پارلیمان سے محکمۂ ڈاک کی نجکاری کے بارے میں بِل مسترد ہونے کے بعد ملک میں فوری انتخابات کا اعلان کیا ہے۔ پارلیمان کے ایوان بالا نے حکومت کی طرف سے محکمۂ ڈاک میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا یہ بِل ایک سو آٹھ کے مقابلے میں ایک سو پچیس ووٹوں سے مسترد کر دیا۔ ووٹنگ کے بعد جاپان کے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ پارلیمان تحلیل کرنے کے بعد نئے انتخابات کا اعلان کریں گے۔ ماہرین کے خیال کے مطابق جاپان میں اسی سال یکم ستمبر تک انتخابات ہو سکتے ہیں۔ محکمۂ ڈاک کی نجکاری کے لیے اس بِل کے منظور ہونے کی صورت میں تین ٹریلین ڈالر کے جائداد کی مالک جاپان پوسٹ نے دنیا کا سب سے بڑا بنک بن جانا تھا۔ بِل کے مسترد ہونے کا اعلان ہوتے ہی بازار میں حصص کی قیمتیں گر گئیں۔ حکومت کی شکست سے حکمران جماعت ایل ڈی پی میں شدید اختلافات سامنے آئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق اس کے بائیس ارکان نے حکومت کے خلاف ووٹ دیا۔ بِل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک کی معیشت میں تیزی لانے کے لیے ضروری ہے کہ محکمۂ ڈاک جاپان پوسٹ کے پاس بھاری مالی وسائل کو جلد از جلد کاروباری افراد کے ہاتھ میں دینے کی ضرورت ہے۔ جاپان پوسٹ کے ڈھائی لاکھ ملازمین ہیں اور یہ خط پہنچانے کے علاوہ بھی عوام کو کئی خدمات فراہم کرتی ہے۔ جاپان پوسٹ بنک اور انشورنس کا بھی کام کرتی ہے اور دیہاتی علاقوں میں ڈاکیے کا احترام کیا جاتا ہے اور عام طور یہ خاندانی پیشہ بن جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||