’جاپانی کمپنی کا جوہری پھیلاؤ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے جوہری نگرانی کرنے والے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے کہا ہے کہ ایک جاپانی کمپنی کے جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہونے کے ثبوت مل گئے ہیں۔ تاہم آئی اے ای اے نے فی الحال اس کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مذکورہ کمپنی یورینیم افزودہ کرنے والی سینٹری فیوج مشینوں کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتی رہی ہے۔ آئی اے ای اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپ اور ایشیا سے تعلق رکھنے والے پانچ ممالک مڈل مین یا دلال کے ذریعے ایران اور لیبیا کو ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کرتے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آئی اے ای اے اب جاپانی حکومت کے ساتھ مل کر تحقیقات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ گزشتہ دنوں اس ادارے کی رپورٹ پر حکومت پاکستان نے خان ریسرچ لیبارٹری سے متعلق سائنسدانوں اور دیگر افراد کے خلاف تحقیقات کی تھیں جو بالآخر پاکستان کے بابائے جوہری پروگرام ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اعتراف اور پھر صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے معافی پر منتج ہوئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||