BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 August, 2006, 11:16 GMT 16:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاپان: جنگی یادگار پر جانے پر تنازع
متنازع یوسوکونی یادگار: جس کے دورے پر جاپانی وزیراعظم کو تنقید کا سامنا ہے
جاپانی وزیراعظم کوزومی نے چین اور شمالی کوریا کے احتجاج کے باوجود جنگی یادگاروں کا دورہ کیا ہے۔

جنگ میں مارے جانے والے پچیس لاکھ افراد یہاں دفن ہیں۔ان میں سابقہ وزیراعظم توجو اور چودہ ایسے افراد بھی شامل ہیں جن پر جنگی جرائم کا الزام ہے۔

چین نے کہا ہے کہ کوزومی کے مزار جانے سے سابقہ جاپانی فوج کشی کے متاثرین کو دھچکا پہنچا ہے۔ شمالی کوریا نے بھی اس کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

جنگ عظیم دوم میں جاپان کے ہتھیار ڈالنے کی سالگرہ کے موقع پر جاپانی وزیراعظم کا ان یادگاروں کا یہ پہلا دورہ تھا۔

کوزومی اپنے روایتی لباس میں ملبوس لیموزین پر سفر کر کے جنگی یادگار پہنچے تھے۔

اے ایف پی نیوزایجنسی کے مطابق وزیراعظم نے وہاں دس منٹ گزارے تھے۔ سفید پھولوں کے درمیان ایک تختی پر ’وزیراعظم جونیچیرو کوزومی‘ درج تھا۔

وزیراعظم کے پہنچنے پر ان کے حامیوں اور فوج کے دائیں بازو کے حامیوں نے جاپانی جھنڈے لہرائے اور ان کی واپسی پر ’ کوزومی شکریہ‘ کے نعرے لگائے۔

وزیراعظم کی حفاظت کے لئے سینکڑوں پولیس والے اور ہیلی کاپٹرز موجود تھے۔

اس سے پہلے اس کے مخالفین نے ہاتھوں میں موم بتیاں اٹھا کر جلوس نکالا تھا۔ جلوس میں تائیوان، شمالی کوریا اور پورے جاپان کے لوگ شامل تھے۔

چین کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جاپانی وزیراعظم کے اس دورے کے خلاف بیجنگ نے سخت اختجاج کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ اس نے چین اور جاپان کے سیاسی تعلقات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

چین سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم مسلسل تاریخی معاملات پر چینی لوگوں کے جذبات مجروح کر رہے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شمالی کوریا کے وزیرخارجہ نے سخت مایوسی اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ چین اور کوریا دونوں نے کوزومی سے اپنی آئندہ ہونے والی ملاقاتیں ملتوی کر دی ہیں۔

جبکہ اے ایف پی کے مطابق جاپانی وزیراعظم نے اس تنقید کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا یہ دورہ ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے تھا جنہوں نے اپنے ملک اور خاندانوں کے لئے اپنی جانیں قربان کر دی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد