BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 February, 2006, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریڈ آرمی کی رہنما کو قید کی سزا
فوساکو شیگینوبو
فوساکو شیگینوبو نے ان الزامات کی تردید کی
جاپان کی گوریلا تنظیم ریڈ آرمی کی شریک بانی خاتون کو انیس سو چوہتر میں ہیگ میں فرانس کے سفارت خانے پر حملے کے الزام میں بیس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ٹوکیو کی ایک عدالت نے ساٹھ سالہ فوساکو شیگینوبو کو اغواء اور اقدامِ قتل کے جرائم کے تحت سزا دی۔ ہیگ کے اس حملے میں فرانسیسی سفیر اور عملے کے دس افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا جس کا مقصد اپنے ساتھیوں کی رہائی تھا۔ اس کارروائی کے دوران ہالینڈ کے دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے۔

پچیس سال کے فرار کے بعد فوساکو کو دو ہزار میں اوساکا سے گرفتار کیا گیا تھا۔ فوساکو کی سزا سے جاپان کی بائیں بازو کی تحریک کے آخری ابواب میں سے ایک بند ہو گیا ہے۔

ٹوکیو میں بی بی سی کے نمائندے جوناتھن ہیڈ کے مطابق ان نوجوان جاپانیوں کے لیے جو دنیا کی محفوظ ترین جگہ پر رہتے ہیں تشدد کا وہ دور ایک انوکھی بات ہے ۔ لیکن انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں شدت پسند جاپان کی سیاست میں بہت نمایاں تھے اور ریڈ آرمی ان میں سب سے زیادہ سخت رویہ کی حامل تھی۔

ریڈ آرمی کا مقصد انقلاب لانا اور جاپان کی حکومت اور بادشاہت کا خاتمہ تھا۔ یہ امریکہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے جانے والی تنظیموں میں سب سے پہلی تھی۔

اس تنظیم کی وجہ شہرت یہ الزام تھا کہ وہ انیس سو بہتر میں اسرائیل کے لوڈ ائر پورٹ پر مشین گن کی مدد سے کیے گئے حملے میں ملوث تھی جس میں بیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

فوساکو نے ان ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا تھا لیکن انہوں نے اس کارروائی کا دفاع کیا جو فلسطین کی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیم پاپولر فرنٹ کے ساتھ مل کر کی گئی تھی۔ ریڈ آرمی کا آخری مشہور حملہ انیس سو اٹھانوے میں اٹلی میں امریکہ کے ایک فوجی کلب پر کار بم دھماکہ تھا۔

انیس سو نوے کی دہائی میں ریڈ آرمی کی طاقت میں اس وقت کمی آ گئی جب اس کے ممبران کو جن کی تعداد چالیس سے زیادہ نہیں تھی، گرفتار کر کے شام اور شمالی کوریا سمیت مختلف ممالک میں قید تنہائی میں بھیج دیا گیا۔

فوساکو لبنان میں اپنی زندگی سے تنگ آ کر چھ سال قبل جاپان واپس آ گئی تھیں۔

خودکشیانٹرنیٹ خودکشی
جاپان میں انٹرنیٹ پر خودکشیوں میں اضافہ
جاپانی شہزادی دل پر تخت قربان
جاپانی شہزادی شادی کے بعد عام شہری بن گئی
 ہیروشیما قیامت کی یادہانی
ہیرو شیما پر ٹوٹنے والی قیامت کے دن کی یاد
اسی بارے میں
دل کے لیے تخت کی قربانی
15 November, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد