انٹرنیٹ خودکشی کی شرح میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان میں انٹرنیٹ پر وعدے کرکے اجتماعی خودکشیوں میں گزشتہ سال سے بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دوہزار پانچ میں اکیانوے افراد نے ایک ساتھ خودکشی کی جبکہ اس کے مقابلے میں دوہزار چار میں یہ تعداد پچپن جبکہ دوہزار تین میں چونتیس تھی۔ خودکشیوں کے بارے میں حاصل ہونے والے اعدادوشمار میں اضافے کے بعد انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والےاداروں کی جانب سے نگرانی بڑھادی گئی ہے۔ ان اداروں نے اس مرتبہ ان اجتماعی خودکشیوں کے بارے میں حکام کو آگاہ کیا۔ جاپان میں خودکشیوں کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور اس طرح کی اجتماعی خودکشیوں سے ان افراد کو تحریک مل سکتی ہے جو اکیلے یہ عمل سر انجام دینے سے ڈرتے ہیں۔ پولیس کے فراہم کردہ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ 19 لوگوں میں سے 54 مرد اور 37 خواتین تھیں اور جو عمر کے بیسویں یا تیسویں سال کو چھورہی تھیں۔ جاپان میں ’خود کشی‘ اس وقت بہت سی ویب سائٹوں پر موضوع بحث بنا ہوا ہے اور یہاں تک بعض ویب سائٹوں پر کہ خود کو ختم کرنے کے بہترین مقامات کے بارے میں ایک گائیڈ بک بھی موجود ہے۔ حکام اس قسم کی ویب سائٹوں کو بند کرنے یا انہیں ریگیولیٹ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ ان خودکشیوں کا ایک بڑا محرک یہ بھی ہے کہ جدید طرز زندگی کی وجہ سے نوجوانوں کی اکثریت خود کو تنہا محسوس کرتی ہے۔ نیشنل پالیسی ایجنسی کے مطابق جاپان میں دوہزار تین میں چونتیس ہزار سے زائد افراد نے خودکشی کی۔ اجتماعی خودکشیاں جاپان میں اس مجموعی تعداد کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ | اسی بارے میں جاپان، خودکشیوں میں ریکارڈ اضافہ23 July, 2004 | نیٹ سائنس ’کم عقل نوجوان خودکشی کرتے ہیں‘21 January, 2005 | نیٹ سائنس جیون ساتھی اور خودکشی کا رشتہ16 April, 2005 | نیٹ سائنس ’خودکشی‘ کی ای میل میں وائرس 10 June, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||