BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 February, 2006, 18:55 GMT 23:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انٹرنیٹ خودکشی کی شرح میں اضافہ
خودکشی
جاپان میں خوکشیوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے
جاپان میں انٹرنیٹ پر وعدے کرکے اجتماعی خودکشیوں میں گزشتہ سال سے بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دوہزار پانچ میں اکیانوے افراد نے ایک ساتھ خودکشی کی جبکہ اس کے مقابلے میں دوہزار چار میں یہ تعداد پچپن جبکہ دوہزار تین میں چونتیس تھی۔

خودکشیوں کے بارے میں حاصل ہونے والے اعدادوشمار میں اضافے کے بعد انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والےاداروں کی جانب سے نگرانی بڑھادی گئی ہے۔ ان اداروں نے اس مرتبہ ان اجتماعی خودکشیوں کے بارے میں حکام کو آگاہ کیا۔

جاپان میں خودکشیوں کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور اس طرح کی اجتماعی خودکشیوں سے ان افراد کو تحریک مل سکتی ہے جو اکیلے یہ عمل سر انجام دینے سے ڈرتے ہیں۔

پولیس کے فراہم کردہ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ 19 لوگوں میں سے 54 مرد اور 37 خواتین تھیں اور جو عمر کے بیسویں یا تیسویں سال کو چھورہی تھیں۔

جاپان میں ’خود کشی‘ اس وقت بہت سی ویب سائٹوں پر موضوع بحث بنا ہوا ہے اور یہاں تک بعض ویب سائٹوں پر کہ خود کو ختم کرنے کے بہترین مقامات کے بارے میں ایک گائیڈ بک بھی موجود ہے۔ حکام اس قسم کی ویب سائٹوں کو بند کرنے یا انہیں ریگیولیٹ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

ان خودکشیوں کا ایک بڑا محرک یہ بھی ہے کہ جدید طرز زندگی کی وجہ سے نوجوانوں کی اکثریت خود کو تنہا محسوس کرتی ہے۔

نیشنل پالیسی ایجنسی کے مطابق جاپان میں دوہزار تین میں چونتیس ہزار سے زائد افراد نے خودکشی کی۔ اجتماعی خودکشیاں جاپان میں اس مجموعی تعداد کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد