جاپان، خودکشیوں میں ریکارڈ اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق جاپان میں خود کشیوں کی شرح میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جاپان کی نیشنل پولیس ایجنسی کے مطابق سن دو ہزار تین میں چونتیس ہزار جاپانیوں نے اپنی جانیں لیں جوکہ گزشتہ برس کی نسبت سات فیصد زیادہ ہے۔ خود کشی کرنے والوں میں سے تین چوتھائی مرد تھے جن میں سے ایک تہائی افراد کی عمریں ساٹھ سے زیادہ تھیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ خودکشی کے رجحان میں اضافے کا بڑا سبب خرابی صحت ہے جبکہ کئی مالی مشکلات کے باعث یہ انتہائی قدم اٹھاتے ہیں۔ جاپان کے وزیر اعظم جونیشیرو کوئیزومی نے کہا ہے کہ اس رجحان پر قابو پانے کے لیے کوئی فوری علاج نہیں ہے تاہم ان کی حکومت ملک کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تازہ ترین اندازوں کے مطابق ملک میں ہر ایک لاکھ میں سے ستائیس افراد خود موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور یہ شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق جاپان کی پینتالیس فیصد خودکشیاں صحت کی خرابی سے تنگ آکر کی جاتی ہیں جبکہ ایک چوتھائی تعداد مالی مشکلات کے باعث یہ کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خودکشی کرنے والے ساڑھے گیارہ ہزار افراد کی عمریں ساٹھ سے اوپر تھیں تاہم اب جوان لوگوں میں بھی یہ رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے ایسے رجحانات سے بہت اثر لیتے ہیں اور اگر جوان افراد میں یہ رجحان پھیلے گا تو بچوں کی خودکشیوں کی تعداد بھی بڑھ جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||