’کم عقل نوجوان خودکشی کرتے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نئی تحقیق کے مطابق ذہین نوجوانوں میں اپنی جان لینے یا خودکشی کرنے کا رجحان کم عقل نوجوانوں کی نسبت کم ہوتا ہے۔ سویڈن اور برطانیہ کے ماہرین کی رائے میں تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نوجوان جن کی ذہانت کی سطح کم ہوتی ہے، ان میں خودکشی کرنے کا رجحان دو سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں فوج کے لیے کام کرنے والے ایک ملین نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا جو فوج میں 26 سال کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔ برٹش میڈیکل جرنل کے مطابق خودکشی کرنے کے احساسات کا تعلق بچپن کے مسائل سے بھی ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حادثاتی اموات کے بعد 15 سے 26 سالہ نوجوانوں کی موت کا سب سے بڑا سبب خودکشی ہے۔ ہر سال تقریباً انیس ہزار نوجوان خودکشی کی کوشش کرتے ہیں جن میں سے نتیجتاً سات سو ہلاک ہوجاتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق سن 1971 سے 1998 کے دوران برطانیہ اور ویلز میں خواتین کے درمیان خودکشی کا رجحان نصف فیصد تک کم ہوگیا تھا تاہم اسی دورانیہ میں نوجوانوں میں یہ رجحان دوگنا ریکارڈ کیا گیا۔ یونیورسٹی آف برسٹل کے پروفیسر ڈیوڈ گنل کا کہنا ہے کہ اس بات کے قوی شواہد موجود ہیں کہ خودکشی کے خطرے کا انحصار کسی حد تک ذہانت پر ہوتا ہے۔ فوج میں بھرتی ہونے والے وہ نوجوان جن کے انٹیلی جنس ٹیسٹ کے نتائج اچھے نہیں آئے تھے اور جن کے والدین ان کی نسبت ذہین واقع ہوئے تھے، ان نوجوانوں میں بھی خودکشی کا رجحان زیادہ پایا گیا۔ ماہرین کے مطابق کم ذہین افراد کو جب مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو ان میں ان مسائل کو حل کرنے کی اہلیت کم ہوتی ہے جس کے سبب وہ اپنی جان لینے کا سوچ سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||