دل کے لیے تخت کی قربانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اپنا شاہی خطاب ترک کرنے کے بعد جاپان کی شہزادی سیاکو نے ٹوکیو میں اپنے منگیتر یوشیکی کرودا سے شادی کر لی ہے۔ ان کے منگیتر کا تعلق کسی شاہی خاندان سے نہیں ہے بلکہ وہ ایک عام آدمی ہیں اور ٹوکیو کی شہری انتظامیہ میں ملازم ہیں۔ ٹوکیو میں ہزاروں افراد نوبیاہتا جوڑے کو مبارکباد دینے کے لیے شاہی محل اور سٹی ہوٹل کے درمیان سڑکوں پر جمع ہوئے۔ سٹی ہوٹل میں ہی شادی کی تقریب منعقد ہوئی جو آدھےگھنٹے تک جاری رہی۔ چھتیس سالہ شہزادی نے چالیس سالہ کرودا سے شادی کے لیے اپنا شاہی خطاب اور الاؤنس چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سنہ 1947 کے ایک جاپانی قانون کے تحت شاہی خاندن کی خواتین کو عوام میں سے کسی شخص سے شادی کے بعد عوامی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔ عوامی طرزِ زندگی اختیار کرنے کے لیے شہزادی سیاکو گاڑی چلانا اور اشیائے ضرورت کی خریداری سیکھ رہی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر باقاعدہ طور پر شاہی خاندان کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ وہ جاپانی بادشاہ اکی ہیٹو کی اکلوتی صاحبزادی ہیں اور گزشتہ پنتالیس برس میں اپنا شاہی خطاب ترک کرنے والے پہلی شہزادی ہیں۔ اس سے قبل سنہ 1960 میں ان کی آنٹی ٹکاکو شمازو نے ایک عام شخص سے شادی کرنے کے لیے شاہی خطاب چھوڑ دیا تھا۔ یاد رہے کہ جاپان میں شاہی خاندان وراثت کے معاملے پر بحران کا شکار ہے کیونکہ گزشتہ چالیس برس میں شاہی خاندان میں کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا ہے اور اب اس بات پر بحث چل رہی ہے کہ شاہی خواتین کو تخت پر بیٹھنے کا حق دے دیا جائے۔ | اسی بارے میں جاپان میں شرح زچگی میں کمی01 June, 2005 | آس پاس جاپان کی گرمیاں: نہ ٹائی نہ کوٹ01 June, 2005 | آس پاس جاپان: سو سال کے بوڑھے، پچیس ہزار13 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||