جاپان کی گرمیاں: نہ ٹائی نہ کوٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان میں موسمِ گرما کے دوران حکومت کی طرف سے مہم چلائی جا رہی ہے کہ سرکاری ملازمین کوٹ اور ٹائیاں پہننا ترک کر دیں۔ اس مہم کا مقصد گرمی کے موسم میں ایئرکنڈیشننگ پر خرچ ہونے والی بجلی بچانا ہے اور سرکاری افسران کو ٹائیاں اور جیکٹس نہ پہننے کا مشورہ اس جواز کی بنا پر دیا جا رہا ہے۔ اگلے تین ماہ میں (جن میں جون جولائی اور اگست بھی شامل ہیں) جاپان کے شہروں میں درجۂ حرارت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور ہوا میں نمی کے تناسب میں بھی بہت اضافہ ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ بہت زیادہ ایئر کنڈیشنرز استعمال کرتے ہیں۔ حکومت کا خیال ہے کہ ایئر کنڈیشنرز کے استعمال گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے میں روکاٹ کا باعث بنتا ہے۔ چناچہ اس مسئلے کا حل یہ سوچا گیا ہے کہ کم از کم سرکاری افسران سے کہا جائے کہ اس بار گرمیوں میں وہ ٹائیاں، کوٹ اور سوٹ نہ پہننے تاکہ ایئر کنڈیشنرز زیادہ نہ چلانے پڑیں۔ اس مرتبہ پہلے ہی جاپان میں کچھ عجیب سے مناظر دیکھنے میں آئے ہیں مثلاً کابنیہ کے ایک وزیر کو ایک تیز رنگ کی قمیض پہنے اور اعلیٰ کاروباری طبقے کے ایک رکن کو عام سے لباس میں دیکھا گیا ہے۔ فی الوقت جاپان کیوٹو معاہدے کے تحت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی حد سے کافی پیچھے ہے۔ چنانچہ کاروباری دنیا کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے دفاتر میں درجۂ حرارت اٹھائیس تک پہنچا دیں تاکہ گرمی کے باعث معمول کا لباس یعنی کوٹ اور ٹائی پہنا مشکل ہو جائے۔ تاہم بعض سرکاری ملازمین کہتے ہیں کہ ٹائی اور کوٹ یا سوٹ نہ پہن کر انہیں گرمی سے زیادہ الجھن ہوگی۔ لہذا اب سیاست دانوں اور سرکاری افسروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک نئی روایت قائم کریں۔ اس ماہ جاپانی کابینہ کے وزیر عام اور سادی قمیض پہنیں گے جن پر سٹڈ اور پن لگی ہوگی تاکہ قمیض کے کالرکی سختی قائم رہے۔ پارلیمان کے اراکین سے بھی کہا گیا ہے کہ اجلاسوں کے دوران وہ بھی کوٹ اور ٹائی کا استعمال ختم کر سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||